Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
336 - 5479
حدیث نمبر 336
روایت ہے حضرت عقبہ بن عامر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لائے جب کہ ہم صفہ میں تھے ۱؎ فرمایا تم میں کون یہ چاہتا ہے کہ ہر صبح بطحان یا عقیق کی طرف نکل جایا کرے اور بغیر گناہ کئے بغیر رشتہ توڑے دو اونچی اونٹنیاں لے آیا کرے ۲؎ ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ہم سب چاہتے ہیں۳؎ فرمایا تو تم میں سے ہر شخص روزانہ صبح کو کیوں نہ مسجد چلا جایا کرے وہاں قرآن کریم کی دو آیتیں سیکھ لیا کرے یا پڑھ لیا کرے ۴؎ یہ دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور چار چار سے اور اسی قدر اونٹوں سے بہتر ہیں ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ صفہ کے معنی ہیں چبوترہ(تھڑا)مسجد نبوی سے متصل پیچھے کی جانب تھوڑا سا چبوترا بنادیا گیا تھا جہاں مہمان اترتے تھے ا ور علم سیکھنے والے فقراء صحابہ وہاں مستقل طور پر رہتے تھے یہ حضرات اصحاب صفہ کہلاتے انہیں کی سی صفات رکھنے والوں کو آج صوفیاء کہتے ہیں،یعنی صفائی دل اور صوف کا لباس رکھنے والی جماعت یہ حضرات کم و بیش ہوتے رہتے تھے کبھی ستر اور کبھی دو سو سے زیادہ گویا یہ مدرسہ نبوی تھا عقبہ ابن عامر اور ابوہریرہ بھی انہی میں سے تھے۔

 ۲؎ یعنی تھوڑی دور جا کر تھوڑی سی دیر میں بہت سا حلال مال لے آوے عرب میں اونٹنی بڑا عزیز مال تھا عقیق مدینہ منورہ سے دو تین میل پر ایک بازار ہے جہاں جانور زیادہ فروخت ہوتے ہیں بطحان مدینہ پاک کا ایک وسیع جنگل ہے بطح بمعنی و سعت یا پتھریلا علاقہ۔

۳؎ یعنی یارسول اﷲ یہ تو ہم سب چاہتے ہیں۔خیال رہے کہ وہ حضرات اگرچہ تار ک دنیا تھے مگر دین کے لیے دنیا حاصل کرنے کو بہت افضل جانتے تھے دنیا اگر دین کے لیے ہو تو عین دین ہے اور اگر طین(مٹی گارے)کے لیے ہو تو دنیا ہے یعنی دنی چیز لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ وہ لوگ تو محبِ دنیا نہ تھے پھر یہ جواب کیوں دیا۔

۴؎ یہ گفتگو صرف صفہ والے اصحاب سے نہیں ہے وہ تو ہر وقت گویا مسجد ہی میں رہتے تھے،بلکہ تاقیامت مسلمانوں سے ہے کہ دنیاوی کاروبار میں مشغول ہونے سے پہلے کچھ علم قرآن حاصل کرلیا کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ دینی مد رسے مسجد میں ہونا بہتر ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا مدرسہ صفہ میں تھا جو مسجد سے متصل تھا گویا مسجد ہی میں تھا ،نیز معلوم ہوا کہ صبح سویرے علم قرآن حاصل کرنا افضل و صبح کے کام میں برکت ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماء بلا تامل طلباء کو علم سکھایا کریں ۔

۵؎ یعنی پانچ آیات پانچ اونٹوں سے افضل اور چھ یا سات آیتیں اسی قدر اونٹوں سے افضل عرب میں ابل مطلقًا اونٹ کو کہتے ہیں نر ہو یا مادہ اور جمل نر اونٹ کو ناقہ مادہ کو جیسے انسان یا آدمی مطلقًا انسان کوکہتے ہیں اور رجل مرد کو امراۃ عورت کو۔خیال رہے کہ یہاں آیت سے مراد آیت سیکھانا یا اس کی تعلیم میں مشغول رہنا ہے یعنی ایک آیت سیکھنا ایک اونٹنی کی ملکیت سے بہتر ہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آیت قرآنی تو تمام دنیا سے بہتر ہے ایک اونٹ کا ذکر کیوں ہوا یا یہ تفصیل ان اہل عرب کو سمجھانے کے لیے ہے جنہیں اونٹ بہت مرغوب ہے جیسے میٹھی نیند سونے والوں کو سمجھانے کے لیے فجر کی اذان میں کہتے ہیں"الصلوۃ خیر من النوم"نماز اس نیند سے بہتر ہے حالانکہ نماز تو ساری دنیا سے بہتر ہے۔
Flag Counter