Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
335 - 5479
كتاب فضائل القرآن

قرآن کے فضائل کا بیان ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ فضائل فضیلت کی جمع ہے فضیلت فضل سے بنا بمعنی زیادتی عرف میں فضیلت اس خصوصی بزرگی کو کہتے ہیں جو دوسرے کو حاصل نہ ہو۔ خیال رہے کہ فضل صفت ہے اور فضول عیب یعنی عبث یا فائدہ سے خالی۔ قرآن کی وجہ تسمیہ ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"جلد اول کے مقدمہ میں ملاحظہ کیجئے کہ یہ لفظ قرءٌسے بنایا قرأۃ سے یا قرن سے قرآن کے فضائل بعض عمومی ہیں یعنی سارے قرآن کے فضائل اور بعض خصوصی یعنی بعض سورتوں یا بعض آیتوں کے خصوصی فائدے و تاثیریں، جن آیات میں حمد و نعت ہیں وہ ذکر بھی افضل، ذاکر بھی اعلیٰ اور مذکور بھی بہتر مگر جن آیات میں کفار کا ذکر ہے وہاں ذکر اعلیٰ ذاکر افضل مگر مذکور بدترین خلق،اسی لیے قل ھو اﷲ تین بار پڑھنے  میں سارے قرآن کی تلاوت کا ثواب ہے کہ یہ حمد کی سورت ہے اور تبت یدا تین سو بار بھی پڑھ لو تو بھی یہ ثواب نہیں کعبہ معظمہ سارا ہی خدا کا گھر ہے مگر رکن اسود بہت اعلیٰ ہے،مسجد ساری بیت اﷲ ہے مگر محراب و منبر اعلیٰ ہیں لہذا اس فضیلت پر منکرین حدیث کا یہ اعتر اض نہیں پڑسکتا کہ سارا ہی قرآن کلام الٰہی ہے پھر یہ فرق مراتب کیسا نبیوں،ولیوں میں فرق مراتب موجود ہے حالانکہ وہ سارے اﷲ کے پیارے ہیں"تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْض"۔
حدیث نمبر 335
روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۱؎(بخاری)
شرح
۱؎ قرآن سیکھنے سکھانے میں بہت وسعت ہے بچوں کو قرآن کے ہجے روزانہ سکھانا،قاریوں کا تجوید سیکھنا سکھانا،علماء کا قرآنی احکام بذریعہ حدیث وفقہ سیکھانا سکھانا صوفیائے کرام کا اسرار و رموز قرآن بسلسلہ طریقت سیکھنا سکھانا سب قرآن ہی کی تعلیم ہے صرف الفاظ قرآن کی تعلیم مراد نہیں،لہذا یہ حدیث فقہاء کے اس فرمان کے خلاف نہیں کہ فقہ سیکھنا تلاوت قرآن سے افضل ہے کیونکہ فقہ احکام قرآن ہے اور تلاوت میں الفاظ قرآن چونکہ کلام اﷲ تمام کلاموں سے افضل ہے لہذا اس کی تعلیم تمام کاموں سے بہتر اور اسرار قرآن الفاظ قرآن سے افضل ہیں کہ الفاظ قرآن کا نزول حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے کان مبارک پر ہوا اور اسرار و احکام کا نزول حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پرہوا،تلاوت سے علم فقہ افضل رب تعالٰی فرماتاہے:"نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ"عمل بالقرآن علم قرآن کے بعد ہے لہذا عالم عامل سے افضل ہے آدم علیہ السلام عالم تھے فرشتے عامل مگر حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام افضل و مسجود رہے۔
Flag Counter