۱؎ فضائل فضیلت کی جمع ہے فضیلت فضل سے بنا بمعنی زیادتی عرف میں فضیلت اس خصوصی بزرگی کو کہتے ہیں جو دوسرے کو حاصل نہ ہو۔ خیال رہے کہ فضل صفت ہے اور فضول عیب یعنی عبث یا فائدہ سے خالی۔ قرآن کی وجہ تسمیہ ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"جلد اول کے مقدمہ میں ملاحظہ کیجئے کہ یہ لفظ قرءٌسے بنایا قرأۃ سے یا قرن سے قرآن کے فضائل بعض عمومی ہیں یعنی سارے قرآن کے فضائل اور بعض خصوصی یعنی بعض سورتوں یا بعض آیتوں کے خصوصی فائدے و تاثیریں، جن آیات میں حمد و نعت ہیں وہ ذکر بھی افضل، ذاکر بھی اعلیٰ اور مذکور بھی بہتر مگر جن آیات میں کفار کا ذکر ہے وہاں ذکر اعلیٰ ذاکر افضل مگر مذکور بدترین خلق،اسی لیے قل ھو اﷲ تین بار پڑھنے میں سارے قرآن کی تلاوت کا ثواب ہے کہ یہ حمد کی سورت ہے اور تبت یدا تین سو بار بھی پڑھ لو تو بھی یہ ثواب نہیں کعبہ معظمہ سارا ہی خدا کا گھر ہے مگر رکن اسود بہت اعلیٰ ہے،مسجد ساری بیت اﷲ ہے مگر محراب و منبر اعلیٰ ہیں لہذا اس فضیلت پر منکرین حدیث کا یہ اعتر اض نہیں پڑسکتا کہ سارا ہی قرآن کلام الٰہی ہے پھر یہ فرق مراتب کیسا نبیوں،ولیوں میں فرق مراتب موجود ہے حالانکہ وہ سارے اﷲ کے پیارے ہیں"تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْض"۔