۱؎ زمانہ جاہلیت حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے زمانہ کو کہتے ہیں جب اہلِ عرب بالکل اندھیروں میں تھے گذشتہ نبیوں کی تعلیم گم ہوچکی تھی،مگر یہاں اشاعت نبوت سے پہلے کا زمانہ مرادہے کیونکہ حضرت عمر کی یہ نذر قبول اسلام کے بعد کی ہے کہ آپ نے مسلمان ہو کر یہ نذر مانی مگر پوری نہ کرسکے کیونکہ کفار مکہ کا بہت زور تھا وہ آپ کو مسجد حرام میں رات گزارنے نہ دیتے تھے وہاں ٹھہرنے میں آپ کو جان کا خطرہ تھا۔(مرقاۃ)
۲؎ رات سے مراد رات مع دن ہے،اہل عرب رات بول کر پورے چوبیس گھنٹے مراد لیتے ہیں، ورنہ نذر کے اعتکاف میں روزہ شرط ہے اور وہ دن ہی میں ہوتا ہے۔ امام شافعی کے ہاں صرف رات بھر کا بھی اعتکاف ہوسکتا ہے ان کے ہاں روزہ شرط نہیں وہ اس حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں،مگر یہ دلیل نہایت ہی کمزور ہے آگے صراحتہً حدیث آرہی ہے کہ بغیر روزہ اعتکاف نہیں اس صریحی حدیث کے ہوتے ہوئے اس اشارہ پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔
۳؎ یہ امروجوبی ہے کیونکہ حضرت عمر کی نذر اسلام قبول کرلینے کے بعد کی ہے مسلمان کی نذر درست ہے،اگر کافر زمانہ کفر میں کسی اچھے کام کی نذر مانے،پھر مسلمان ہوجائے تو اسے نذر پورا کرنا مستحب ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو کعبہ معظمہ یعنی مسجد حرام میں اعتکاف کا حکم دیا، بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر مسجد نبوی میں اعتکاف کی نذر مانی ہو تو دوسری مسجد میں اعتکاف نہیں کرسکتا،ان کی دلیل یہ حدیث ہے بعض کے ہاں کرسکتا ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم استحبابی ہے۔
۴؎ یہ حدیث ابوداؤد،نسائی اور دارقطنی نے بھی نقل کی مگر ان کی روایت میں ہے کہ جناب عمر نے کعبہ معظمہ کے پاس ایک دن و رات اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی،نسائی دار قطنی نے روایت کی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتکاف اور روزے کا حکم دیا۔(مرقات)فتح القدیر میں ہے کہ مسلم و بخاری کی روایت میں بھی ہے کہ حضرت عمر نے ایک دن و رات کے اعتکاف کی نذر پوری کی تھی۔