۱؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کا دروازہ مسجد میں تھا تو بحالت اعتکاف آپ مسجد میں رہتے اور حضرت عائشہ گھر میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے سر مبارک حجرہ میں کردیتے ام المؤمنین کنگھی کردیتی تھیں۔ اس حدیث سے بہت سے مسائل معلوم ہوئے :ایک یہ کہ معتکف کا اپنے بعض اعضاء مسجد سے نکال دینا جائز ہے یہ مسجد سے نکلنا نہیں کہا جاتا اسی طرح حائضہ عورت کا اپنے بعض اعضاء مسجد میں داخل کردینا جائز ہے۔ تیسرے یہ کہ کنگھی وغیرہ مسجد میں نہ کرنا بہترہے کہ اس سے بال مسجد میں گریں گے اڑیں گے۔چوتھے یہ کہ جو کام مسجد میں رہ کر کئے یا کرائے جاسکتے ہیں ان کے لیے معتکف مسجد سے نہ نکلے۔
۲؎ حاجت انسانی سے مراد صرف پیشاب پاخانہ ہے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے محفوظ ہیں۔ فقہاء صرف چار کاموں کے لیے معتکف کو مسجد سے نکلنے کی اجازت دیتے ہیں پیشاب پاخانہ غسل جنابت اور نماز جمعہ اگر اس مسجد میں جمعہ نہ ہوتا ہو اور اس پر جمعہ فرض ہو،غسل جمعہ کے متعلق روایت نہ ملی۔حضرت شیخ نے یہاں اشعہ میں فرمایا کہ معتکف غسل نفل کے لیے بھی مسجد سے نکل سکتا ہے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ اگر مسجد میں رہتے ہوئے کسی ٹپ وغیرہ میں اس طرح غسل کرلے کہ مسجد میں مستعمل پانی بالکل نہ گرے تو وہاں ہی کرے غسل خانہ میں نہ جائے۔