۱؎ کسی مجبوری کی وجہ سے ورنہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے بلاعذر اعتکاف کبھی نہ چھوڑا،ہمیشہ رمضان کے آخری عشرے میں کرتے تھے۔(مرقات)
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ گزشتہ رمضان کے اعتکاف کی قضا ء نہ تھی ورنہ اس رمضان تک انتظار نہ فرماتے،وہ رمضان گزرتے ہی قضاء کرلیتے جیسے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے آخری رمضان میں جس کے بعد وفات شریف واقع ہوئی بیس دن اعتکاف فرمایا تھا ایسے ہی اس رمضان میں کیا، ہوسکتاہے کہ دس دن گزشتہ رمضان کی قضاء ہی ہوں تو یہ قضا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات سے ہے ورنہ آپ پر اعتکاف فرض نہ تھا اور قضاءصرف فرض یا واجب کی ہوتی ہے جیسے ایک دفعہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ظہر چار رکعت رہ گئی تھیں تو بعد عصران کی قضاء کی پھر ہمیشہ یہ رکعتیں پڑھتے رہے،وہ بھی خصوصیات میں سے تھا۔مرقات نے فرمایا کہ موقف نفلوں کی قضا کرلینا بہتر ہے جیسے نفل تہجد۔