۱؎ یعنی شروع نبوت سے ما بعد ہجرت شروع سے ہر رمضان میں حضرت جبریل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پارہ روز دورہ کرتے تھے جس سے پورے رمضان میں ایک ختم ہوتا تھا وفات کے سال دو پارہ روز دور کیا جس سے مہینہ میں دو ختم ہوئے۔ یوں سمجھو کہ افضل رسول پر افضل مہینہ میں افضل کلام افضل مقام میں لاکر سنتے اور سناتے تھے،یہاں معاوضہ سے مراد مدارستہ ہے یعنی دور شعر
نور آیا تو لایا نور پر نورانی رات اس لیے رمضان کا سارا مہینہ نور ہے
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات کی خبر تھی کہ اس سال ہوگی اسی لیے اس سال سفر آخرت کی تیاری خصوصیت سے فرمارہے ہیں یہ حدیث اہل سنت کے بہت سے مسائل کی اصل ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر شخص بڑھاپے میں یا مرض وفات میں خصوصیت سے آخرت کی تیاری کرے دنیاوی تعلقات کم کرنا شروع کردے یہ بھی سنت رسولی ہے،اﷲ تعالٰی توفیق دے۔