۱؎ یعنی میرا مکان مدینہ منورہ سے دور اپنی زمین میں واقع ہے جہاں میرا کنواں باغ وغیرہ ہے وہاں ہی میرے جانور رہتے ہیں اور وہاں ہی میرے بال بچے۔عرب میں یہ بات عام مروج تھی کہ باغوں زمینوں والے اپنی زمینوں میں رہتے تھے۔ ۲؎ اس طرح کہ اس زمین میں میں نے مسجد بنالی ہے جہاں ہم سب گھر والے باجماعت نمازیں پڑھ لیا کرتے ہیں،راہگیر مسافربھی وہاں نمازیں پڑھتے ہیں جیساکہ پنجاب میں کنوؤں کی مسجدوں میں ہوتا ہے لہذا ان صحابی پر ترک جماعت کا اعتراض نہیں ہوسکتا۔ ۳؎ یعنی مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوجایا کروں رات بھر نوافل پڑھنے کے لیے یعنی شبِ قدر بتادیں تاکہ زمان اور مکان دونوں کی برکتیں حاصل کرلیا کروں،شبِ قدر ہو مسجد نبوی کی زمین پاک ہو اور میری جبین نیاز ہو اس طرح نوافل ادا کیا کروں رب تعالٰی کبھی ہم کو بھی یہ سعادت میسر کرے ۔ ۴؎ یعنی تیئسویں رمضان کی رات یہاں آکر شب بیداری اور نوافل ادا کیا کرو کہ یہ رات شبِ قدر ہے،یہ حدیث ان بزرگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ تئیسویں رمضان شبِ قدر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضو انورصلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کا علم دیا گیا۔ ۵؎ یعنی میرے والد بائیسویں رمضان کی عصر پڑھ کر مسجد نبوی میں داخل ہوجاتے تھے.ظاہر یہ ہے کہ نماز عصر اپنے گھر پڑھ کر آتے تھے اور ہوسکتا ہے کہ نماز عصر یہاں مسجد نبوی شریف میں ہی پڑھتے ہوں،تب داخلہ سے مراد ٹھہرنے کا داخلہ ہوگا،اس طرح کہ یہاں عصر پڑھی پھر ضروریات سے فارغ ہوئے پھر رات بھر قیام کے ارادے سے مسجد میں آگئے۔ ۶؎ ظاہر یہ ہے کہ حاجت سے مراد مطلق ضرورت ہے تو آپ تمام ضروریات انسانی سے ایسے فارغ ہوکر مسجد میں داخل ہوتے تھے کہ پھر وضو کے لیے بھی باہر نہ آتے تھے وضو ٹوٹتا ہی نہ تھا اس جملہ کی اور بہت شرحیں کی گئی ہیں مگر یہ شرح بہت ہی مناسب ہے۔خیال رہے کہ آپ معتکف نہ ہوتے تھے کیونکہ فرضی اعتکاف تو چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے اور اعتکاف سنت رمضان کے پورے آخری عشرہ کا اور اعتکاف نفلی ایک ساعت کا بھی ہوسکتا ہے مگر اس میں مسجد سے باہر آنا ممنوع نہیں جب چاہے معتکف باہر آجائے اور جب چاہے اندر جائے اور پھر نیت اعتکاف کرلے لہذا جن شارحین نے اس سے اعتکاف سمجھا وہ مناسب نہیں معلوم ہوتا۔آپ اس رات کی حاضری کو غنیمت جانتے تھے اور ایک منٹ کے لیے بھی باہر نہ آتے تھے۔ ۷؎ اور پھرشہر میں کبھی کبھار آتے۔اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اس رات کو وہ شب قدر جان کر یہ عبادت کرتے تھے جیساکہ مرقات میں ہے۔ ۸؎ ابوداؤدنے یہ حدیث ضمرہ ابن عبداﷲ ابن انیس سے روایت کی،اس اسناد میں محمد ابن اسحاق راوی ہیں جن کا حال یہ ہے کہ اگر وہ حدثنا کہہ کر روایت کریں تو اسناد صحیح ہوتی ہے اصل حدیث مسلم کی ہے بروایت بشر ابن سعید۔