| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا وہ ہر رمضان میں ہوتی ہے ۱؎ (ابوداؤد)اور ابوداؤد نے کہا کہ یہ حدیث سفیان و شعبہ نے ابو اسحاق سے حضرت ابن عمر پرموقوف روایت کی۔
شرح
۱؎ اس جواب کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ ہمیشہ شبِ قدر رمضان میں ہوگی اس کے علاوہ دوسرے مہینہ میں نہیں ہوگی نہ تو یہ ہوگا کہ کوئی سال شب قدر سے بالکل خالی رہے کہ کسی مہینہ میں شب قدر نہ ہو اور نہ یہ کہ رمضان کے سواءکسی اور مہینہ میں ہو جاوے۔دوسرے یہ کہ رمضان کے ہر حصہ میں شب قدر ہوسکتی ہے آخری عشرہ سے خاص نہیں،کبھی شروع تاریخوں میں ہوگی،کبھی درمیانی میں اور کبھی آخری تاریخوں میں۔یہ حدیث ان علماء کی دلیل ہے جوکہتے ہیں کہ ہمیشہ شبقدر رمضان ہی میں ہوگی مگر تاریخ مقرر نہیں کبھی کسی تاریخ میں اور کبھی کسی میں۔واﷲ ورسولہ اعلم!
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن انیس سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میرا ایک جنگل ہے جس میں میں رہتا ہوں ۱؎ اور الحمدﷲ وہاں ہی نمازیں پڑھتا ہوں ۲؎ مجھے ایک رات بتادیجئے جس میں میں اس مسجد میں آیا کروں۳؎ فرمایا تئیسویں رات آجایا کرو۴؎ ان کے بیٹے سے پوچھا گیا کہ آپ کے والد کیا کرتے تھے فرمایا جب عصر پڑھ لیتے تو مسجد نبوی میں چلے جاتے ۵؎ پھرکسی کام کے لیے نہ نکلتے حتی کہ نماز فجر پڑھ لیتے ۶؎ جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اس پر سوار ہوکر اپنے جنگل چلے جاتے ۷؎ (ابوداؤد)۸؎