روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شبقدر بتانے تشریف لائے ۱؎ تو دو مسلمان مرد لڑ پڑے ۲؎ حضور نے فرمایا کہ میں تمہیں شب قدر بتانے آیا تھا مگر فلاں فلاں لڑ پڑے تو شبِ قدر اٹھالی گئی ۳؎ ممکن ہے یہ اٹھالیا جانا تمہارے لیے بہتر ہی ہو۴؎ اب اسے آخری نویں،ساتویں،پانچویں میں تلاش کرو ۵؎(بخاری)
شرح
۱؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کی خبربھی دے دی گئی اور بتانے کی اجازت بھی دے دی گئی اس لیے سر کار بتانے کے لیے تشریف لائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی نے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو شبقدر کا علم دیا۔ ۲؎ غالبًا یہ حضرات عبداﷲ ابن ابی حدرد اور کعب ابن مالک تھے جن کا جھگڑا قرض کے متعلق تھا جن میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھا معاف کرادیا اور باقی آدھا ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ ۳؎ یعنی میرے علم سے اس کا تقرر دور کردیا گیا اور مجھے بھلا دی گئی،یہ مطلب نہیں کہ خود شب قدر ہی ختم کردی اب وہ ہوا ہی نہ کرے گی ان جھگڑنے والوں کا جھگڑانا حق بھی تھا اور اعتدال سے زیادہ بھی جس کا اثر یہ ہوا۔معلوم ہوا کہ دنیاوی جھگڑے منحوس ہیں ان کا وبال بہت ہی زیادہ ہے ان کی وجہ سے اللہ کی آتی ہوئی رحمتیں رک جاتی ہیں۔ ۴؎ یعنی اس شر کے ضمن میں تمہارے لیے خیر ہے کہ اب تم شبِ قدر تلاش کرو گے اور اس کی تلاش بھی عبادت ہے،لہذا تم اس پر بھی بہت ثواب پاؤ گے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص شبِ قدر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے تو وہ بھی لوگوں پر ظاہر نہ کرے کہ اس کا ظاہر نہ کرنا سنت ہے اور ظاہر کردینا خلاف سنت اﷲ تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع کردیا تھا مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحقیقی اطلاع نہ دی تھی یا علامتیں بتائیں یا نوعی تقرر ظاہر کیا۔ ۵؎ یعنی رمضان کی انتیسویں،ستائیسویں،پچیسویں راتوں میں زیادہ جستجو کرو غالب یہ ہے کہ ان میں سے کسی رات میں ہے۔اس فرمان سے معلوم ہوا کہ اس جھگڑے سے خود شبقدر نہ اٹھی تھی بلکہ اس کا تعین اٹھا ورنہ اس کے تلاش کرنے کے کیا معنی،تلاش وہ چیز کی جاتی ہے جو ہو مگر اس کا پتہ نہ ہو۔