۱؎ آپ قرشی ہیں،اموی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور آپ کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کا حاکم بنایا،صدیق اکبر نے اپنی خلافت میں آپ کو اس عہدہ پر بحال رکھا،صدیق اکبر کی وفات کے دن آپ کی مکہ مکرمہ میں وفات ہوئی،وہیں دفن ہوئے،کل پچیس سال عمر پائی،بڑے صالح متقی تھے۔
۲؎ حدیث بالکل ظاہر ہے کہ انگور کے باغ کا مالک سارے انگور توڑ کر وزن کرکے زکوۃ نہ نکالے بلکہ پہلے تو یہ اندازہ لگائے کہ کل پھل کتنا ہوگا،پھر یہ کہ کشمش ہوکر کتنا رہے گا اس کا دسواں یا بیسواں حصہ زکوۃ نکالے،چونکہ خیبر پہلے ۷ ہجری میں فتح ہوچکا تھا جہاں کھجور کے باغات ہیں وہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداﷲ ابن رواحہ کو اندازہ لگانے کے لیے بھیجاتھا اور طائف بعد میں فتح ہوا جہاں انگور کے باغات بکثرت تھے اس لیے حضور انور نے انگور کی زکوۃ کو کھجور کی زکوۃ سے تشبیہ دی۔(ازمرقات)