۱؎ یہ حکام کو حکم ہے یعنی اے حاکمو!جب تم باغوں یا کھیتوں میں زکوۃ لینے جاؤ تو خودبھی اور دوسرے واقف کاروں کی مدد سے بھی اندازہ لگاؤ کہ اس میں کل پھل یا دانہ کتنا ہے،اس کی زکوۃ کا حساب لگاؤ اور تہائی یا چوتھائی زکوۃ چھوڑ دو تاکہ وہ مالک خود اپنے ہاتھ سے اپنے غریب قرابت داروں وغیرہ کو دے اور دو تہائی یا تین چوتھائی خود لے آؤ۔خیال رہے کہ امام شافعی و ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہما کے نزدیک یہ حکم خراج میں ہے زکوۃ پوری عامل وصول کرے گا،ان کے ہاں یہ حکم خیبر کے حکام کو تھا جو خیبر کے یہودیوں سے پیداوار کا نصف وصول کرنے جاتے تھے کیونکہ ان لوگوں سے اس پر صلح ہوئی تھی کہ پیداوار کا آدھا تمہارا ہوگا اور آدھا مسلمانوں کا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازروئے کرم حکم دیا کہ اپنے اندازے سے کچھ کم کرکے اس کا آدھا لو تاکہ ہماری طرف ان کا حق نہ آجائے ہمارا ان کی طرف رہ جائے تو حرج نہیں۔