۱؎ آپ کا نام موسیٰ ابن طلحہ ابن عبداﷲ ہے،تمیمی ہیں،قرشی ہیں،تابعی ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا تو ہوئے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کرسکے،آپ کا نام موسیٰ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے رکھا،آپ کے والد طلحہ عشر ہ مبشرہ میں سے ہیں۔
۲؎ یہ حدیث ظاہری معنے سے امام اعظم کی دلیل ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں ان چیزوں کا وزن مقرر نہ کیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیداوار میں مطلقًا زکوۃ واجب ہے کم ہو یا زیادہ۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ فرمارہے ہیں ہمارے پاس معاذ ابن جبل کی ہی مضمون کی کتاب بھی ہے اور ہمیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خبر بھی پہنچی ہے۔اس صورت میں یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ تابعی نے بغیر ذکر صحابی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کردی،اسی معنے کی بنا پر مصنف نے اسے مرسل فرمایا اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت معاذ کی وہ کتاب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو حضرت معاذ نے لکھ لیاتھا،اس صورت میں یہ حدیث مرسل نہیں بلکہ متصل ہے۔