Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
313 - 5479
حدیث نمبر 313
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا ۱؎ پھر ترکی خیمہ کے اندر درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا ۲؎ پھر سر مبارک خیمہ سے نکال کر فرمایا کہ ہم نے اس رات کی تلاش میں پہلے عشرہ کا اعتکاف کیا پھر درمیانی عشرہ کا اعتکاف کیا ۳؎ پھر ہمارے پاس آنے والا آیا اور مجھے بتایا گیا کہ وہ رات آخری عشرہ میں ہے۴؎ تو جس نے ہمارے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ آخری عشرہ کا بھی اعتکاف کرے ۵؎ مجھے یہ رات دکھائی گئی تھی پھر بھلا دی گئی ۶؎ میں نے اس رات کی سویرے اپنے کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا ہے ۷؎ لہذا تم اسے آخری عشرہ میں ڈھونڈو ہر طاق تاریخ میں  تلاش کرو ۸؎  راوی فرماتے ہیں کہ اس نے بارش دیکھی اور مسجد پر چھپر تھا ۹؎ چنانچہ مسجد ٹپکی اور میری آنکھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیسویں کے سویرے دیکھا کہ آپ کی پیشانی پاک پر کیچڑ کا اثر تھا ۱۰؎ مسلم،بخاری معنے اور لفظ مسلم کے ہیں اس مضمون تک کہ مجھے بتایا گیا وہ آخری عشرہ میں ہے باقی بخاری میں ہے۔
شرح
۱؎ یہاں اول واو کے شد سے بھی ہوسکتا ہے تفعیل کا واحد مذکر کیونکہ لفظ عشر واحد بھی ہے مذکر بھی اور ہمزہ کے پیش واؤ کے زبر سے بھی اولیٰ کی جمع کیونکہ عشر معنے کے لحاظ سے مونث ہے اور جمع ہے،پہلی قرأت زیادہ مشہور ہے اگلا جملہ بھی اس کی تائید کررہا ہے کہ اس میں اوسط واحد مذکر آیا ہے یعنی نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار رمضان کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا۔

۲؎ اس خیمہ کو عربی میں خرتان کہتے ہیں اور فارسی میں خرکاء۔یہ نمدہ یا کمبل کا چھوٹا سا گول خیمہ ہوتا ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے مسجد میں لگایا گیا تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ معتکف مسجد میں اپنے لیے جگہ خاص کرلیتا ہے جہاں چادر وغیرہ تان لے جس میں بغیر اجازت کوئی نہ آسکے۔

۳؎ اس وقت تک حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کی اطلاع نہیں دی گئی تھی،آپ نے صرف اجتہاد سے یہ تلاش فرمائی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے بھی علم تھا کہ شب قدر رمضان ہی میں ہے دوسرے مہینوں میں نہیں،یہ حدیث ان بزرگوں کے خلاف ہوگی جو کہتے ہیں کہ شبِ قدر سال بھر میں کبھی ہوجاتی ہے۔

۴؎ چونکہ اس عشرہ کی ہر رات میں شبِ قدر ہونے کا حتمال تھا اس لیے یہاں اواخر جمع ارشاد ہوا۔(مرقات)یعنی بیسویں تاریخ کو فرشتہ نےآ کر عرض کیا کہ شبِ قدر اگلے عشرہ میں ہے رب تعالٰی چاہتا تھا کہ محبوب کا سارا مہینہ اعتکاف میں گزرے اس لیے پہلے اطلاع نہ دی۔

 ۵؎ تاکہ اس کی یہ محنت رائیگاں نہ جائے اور شبِ قدر کی تلاش میں کامیاب ہوجائے۔اس جملے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شبِ قدر رمضان میں ہے اور آخری عشرہ میں ہے۔

۶؎  مرقات نے یہاں فرمایا کہ غالبًا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کی خصوصی علامت بتائی گئی تھی پھر وہ بھلا دی گئی تاکہ امت اس کی تلاش میں کوشش کرے اور ثواب پائے،معین رات صراحۃً نہ بتائی گئی تھی کہ اس کا بھول جانا کچھ بعید ازعقل ہے۔خیال رہے کہ جو چیز ضروریات دین سے نہ ہو پیغمبر اسے بھول سکتے ہیں اور اس بھول میں اﷲ کی بہت حکمتیں ہیں،یہ بھی خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر وغیرہ تمام چیزوں کا تفصیلی علم عطا ہوا،خود فرماتے ہیں:"فتجلی لی کل شیئ و عرفت"ہر چیز میں شب قدر بھی یقینًا داخل ہے بھلا دی گئی فرماکر یہ بتایا کہ یہ بھولنا ہماری اپنی کوتاہی سے نہیں ہوا بلکہ رب تعالٰی کی طرف سے ہوا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَلَا تَنۡسٰۤی اِلَّا مَا شَآءَ اللہُ"۔

۷؎  یعنی میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ اس سال شبِ قدر میں بارش ہوگی،مسجد نبوی شریف ٹپکے گی جس سے مسجد میں کیچڑ ہوجائے اور ہم اس کیچڑ میں نماز فجر ادا کریں گے،یہ مطلب نہیں کہ ہر سال شبِ قدر میں بارش ہوا کرے گی اور ہم کیچڑمیں فجر پڑھا کریں گے۔

۸؎  معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر بالکل نہ بھلائی گئی تھی بلکہ اس کا تقرروتعین بھلا دیا گیا تھا اس لیے فرمایاکہ شبِ قدر آخری عشرہ رمضان کی طاق تاریخوں تئیسویں،پچیسویں وغیرہ میں ہےڈھونڈو۔

۹؎  کہ بجائے ستونوں کے کھجور کے تنے تھے اور بجائے کڑیوں کے کھجور کی شاخیں تھیں جن پر کھجور کے پتے ڈال دیئے گئے تھے دھوپ بھی چھن کر آتی تھی اور بارش بھی اسی لیے تھوڑی بارش سے مسجد میں کیچڑ ہو جاتی تھی۔

۱۰؎ تب ہمیں پتہ لگا کہ آج اکیسویں شب کو لیلۃ القدر ہوگئی۔اس حدیث کی وجہ سے بعض علماء فرماتے ہیں کہ شب قدر اکیسویں رمضان میں ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سال اکیسویں شب تھی ہمیشہ نہیں۔ہم عرض کر چکے ہیں کہ دلائل ہر رات کے متعلق موجود ہیں مگر ستائیسویں شب کے دلائل ہی قوی اور زیادہ ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سجدہ میں پیشانی زمین پر ضرور لگائے اگرچہ فرش پر معمولی کیچڑ ہو اور نماز میں پیشانی وغیرہ پونچھے نہیں مٹی کیچڑ لگنے دے،ہاں بعد نماز پونچھ ڈالے کہ یہ عبادت کا اثر ہے جس کے اظہار میں ریاء کا اندیشہ ہے۔
Flag Counter