۱؎ عرب میں دستور ہے کہ ابتدائی مہینہ میں تاریخوں کا اعتبار شروع مہینہ سے کرتے ہیں یعنی پانچویں تاریخ وہ جس سے پہلے چار تاریخیں گزر گئی ہوں،آٹھویں وہ جس سے پہلے مہینہ کے سات دن گزر چکے ہوں مگر مہینہ کے انتہا میں آخر کی طرف سے حساب لگاتے ہیں اس طرح کہ نویں تاریخ وہ جس کے بعد مہینہ کے نو دن باقی ہوں یعنی اکیسویں،ساتویں تاریخ وہ جس کے بعد مہینہ کے سات دن باقی ہوں یعنی تیسویں اور اس کے ساتھ لفظ تَبْقیٰ بول دیتے ہیں یعنی اس کے بعد اتنے روز باقی ہیں اسی محاورے سے یہ فرمان عالی ہے تو مطلب یہ ہوا کہ شبِ قدر رمضان کی اکیسویں،تیسویں،پچیسویں وغیرہ میں تلاش کرو۔شارحین نے اس جملے کے اور بہت سے معنے کئے ہیں کہ سابعہ سے ستائیسویں شب مراد ہے،تاسعہ سے انتیسویں اور خامسہ سے پچیسویں مگر فقیر نے جو معنی کئے آسان تر ہیں۔واﷲ ورسولہ اعلم! اس افصح الفصحاء صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنا آسان نہیں۔