Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
311 - 5479
حدیث نمبر 311
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کو  شب قدر خواب  میں دکھائی  گئی  کہ  رمضان  کے  آخری  ہفتہ  میں  ہے  ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خوابیں  آخری ہفتہ پر متفق ہوگئیں۲؎ ہیں تو  جو شب قدر تلاش کرے وہ  آخری ہفتہ میں تلاش کرے۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ ترجمہ بہت احتیاط سے کیا گیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ کسی صحابی نے خواب دیکھا کہ وہ رمضان کی اکیسویں شب ہے،کسی نے دیکھا کہ تئیسویں ہے،کسی نے پچسویں اور کسی نے ستائیسوں یا انتیسویں کہا ہے یعنی آخری عشرہ کی طاق راتیں،چونکہ ان میں اکثر راتیں آخری ہفتہ میں ہیں یعنی تئیسویں سے انتیسویں تک اس لیے آخری ہفتہ ارشاد ہوا۔اس جملہ کی شرح میں شارحین کو بہت دشواری ہوئی ہے،فقیر نے جو عرض کیا وہ زیادہ قرین ہے۔واﷲ ورسولہ اعلم!

۲؎ یعنی اے صحابہ تمہاری خوابیں شخصی تعیین میں تو مختلف ہیں مگر نوعی تعیین میں متفق ہیں کہ ہرشخص نے اسے رمضان کے آخری ہفتہ میں دیکھا۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن کا خواب معتبر ہے خصوصًا جب کہ نبی کی تصدیق بھی ہوجائے،دیکھو اذان خواب ہی میں صحابہ نے دیکھی تھی جو آج تک اسلام میں جاری ہے بلکہ اسلام کا شعار ہے،ایسے ہی یہ بھی ہے لہذا اکیسویں،تیسویں،پچیسویں،ستائیسویں،انتیسویں میں اس کی تلاش کی جائے۔اس کی تفصیل اگلی حدیث میں آرہی ہے۔
Flag Counter