Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
310 - 5479
باب لیلۃ القدر

باب شب قدر کا ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  شبِ قدر اس امت محمدیہ کی خصوصیات سے ہے ہم سے پہلے کسی کو نہ ملی۔قدر کے معنے ہیں اندازہ لگانا،عزت و عظمت و تنگی،چونکہ اس رات میں سال بھر کے ہونے والے واقعات فرشتوں کے صحیفوں میں لکھ کر انہیں دے دیئے جاتے ہیں،ملک الموت کو سال بھر میں مرنے والوں کی فہرست مل جاتی ہے،حضرت میکائیل کو تقسیم رزق کی فہرست عطاہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فِیۡہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍحَکِیۡمٍ"۔نیز اس رات میں اتنے فرشتے زمین پر اترتے ہیں کہ زمین تنگ ہوجاتی ہے،ارشاد باری تعالٰی ہے:"تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوۡحُ فِیۡہَا"اس لیے اسے لیلۃ القدر کہتے ہیں،نیز  اس رات کی عزت وعظمت بہت زیادہ ہے،اس شب میں عبادت کرنے والا رب تعالٰی کے ہاں عزت پاتا ہے لہذا  اسے لیلۃ القدر کہتے ہیں ۔اس میں بہت اختلاف ہے کہ یہ رات کب ہوتی ہے۔بعض کے خیال میں یہ مقرر نہیں کسی سال کسی مہینہ اور کسی تاریخ میں،دوسرے سال کسی مہینہ اور تاریخ میں،بعض کا خیال ہے کہ رمضان شریف میں ہوتی ہے مگر تاریخ مقرر نہیں،بعض کے خیال میں رمضان کے آخری عشرہ میں ہے،بعض کہتے ہیں کہ اس عشرہ کی طاق تاریخوں میں ہے اکیسویں تئیسویں وغیرہ مگر زیادہ قوی قول یہ ہے کہ ان شاءاﷲ شب قدر ہمیشہ ستائیسویں رمضان کی شب ہے کیونکہ لیلۃ القدر میں ۹ حرف ہیں،یہ لفظ سورۂ قدر میں تین جگہ ارشاد ہوا ہے نوتیہ ستائیس ہوتے ہیں،نیز سورۂ قدر میں تیس حرف ہیں جن میں سے ستائیسواں حرف ہے "ھی"یہ ضمیر لیلۃ القدر کی طرف لوٹتی ہے۔(روح البیان)اس کی پوری تحقیق اور اس رات میں کرنے کے اعمال ہماری کتاب "مواعظ نعیمیہ"اور"اسلامی زندگی"میں ملاحظہ کرو۔
حدیث نمبر 310
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ قدر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق تاریخوں میں ڈھونڈوا ۱؎(بخاری)
شرح
۱؎ اس حدیث سے اتنامعلوم ہوا کہ شبِ قدر ہر سال ماہ رمضان میں ہوتی ہے اور ہوتی بھی ہے آخری عشرہ میں،وہ بھی طاق تاریخوں میں،قرآن کریم بھی اس کی تائید فرمارہا ہے کیونکہ ایک جگہ ارشاد ہے:"شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الْقُرْاٰنُ"۔جس سے معلوم ہوا  کہ نزول قرآن ماہ رمضان میں ہے دوسری جگہ ارشاد ہے:"اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الْقَدْرِ"جس سے معلوم ہوا کہ قرآن شب قدر میں نازل ہوا یہ دونوں آیتیں جب ہی جمع ہوسکتی ہیں جب کہ شبِ قدر رمضان میں ہو۔خیال رہے کہ شبِ قدر کو رب تعالٰی نے ہم سے چھپالیا تاکہ ہم اس کی تلاش میں بہت راتوں میں عبادات کریں۔تلاش کرنے سے مرادعبادتیں کرنا ہے۔حق یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کا علم دیا مگر اس کے اظہار کی اجازت نہ دی۔اسمِ اعظم کی طرح عوام سے اسے چھپا رکھا تاکہ اس کی تلاش رہے اور اچھی چیز کی تلاش بھی عبادت ہے لہذا یہ چھپانا ہمارے لیے بہتر ہے۔
Flag Counter