۱؎ شبِ قدر اس امت محمدیہ کی خصوصیات سے ہے ہم سے پہلے کسی کو نہ ملی۔قدر کے معنے ہیں اندازہ لگانا،عزت و عظمت و تنگی،چونکہ اس رات میں سال بھر کے ہونے والے واقعات فرشتوں کے صحیفوں میں لکھ کر انہیں دے دیئے جاتے ہیں،ملک الموت کو سال بھر میں مرنے والوں کی فہرست مل جاتی ہے،حضرت میکائیل کو تقسیم رزق کی فہرست عطاہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فِیۡہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍحَکِیۡمٍ"۔نیز اس رات میں اتنے فرشتے زمین پر اترتے ہیں کہ زمین تنگ ہوجاتی ہے،ارشاد باری تعالٰی ہے:"تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوۡحُ فِیۡہَا"اس لیے اسے لیلۃ القدر کہتے ہیں،نیز اس رات کی عزت وعظمت بہت زیادہ ہے،اس شب میں عبادت کرنے والا رب تعالٰی کے ہاں عزت پاتا ہے لہذا اسے لیلۃ القدر کہتے ہیں ۔اس میں بہت اختلاف ہے کہ یہ رات کب ہوتی ہے۔بعض کے خیال میں یہ مقرر نہیں کسی سال کسی مہینہ اور کسی تاریخ میں،دوسرے سال کسی مہینہ اور تاریخ میں،بعض کا خیال ہے کہ رمضان شریف میں ہوتی ہے مگر تاریخ مقرر نہیں،بعض کے خیال میں رمضان کے آخری عشرہ میں ہے،بعض کہتے ہیں کہ اس عشرہ کی طاق تاریخوں میں ہے اکیسویں تئیسویں وغیرہ مگر زیادہ قوی قول یہ ہے کہ ان شاءاﷲ شب قدر ہمیشہ ستائیسویں رمضان کی شب ہے کیونکہ لیلۃ القدر میں ۹ حرف ہیں،یہ لفظ سورۂ قدر میں تین جگہ ارشاد ہوا ہے نوتیہ ستائیس ہوتے ہیں،نیز سورۂ قدر میں تیس حرف ہیں جن میں سے ستائیسواں حرف ہے "ھی"یہ ضمیر لیلۃ القدر کی طرف لوٹتی ہے۔(روح البیان)اس کی پوری تحقیق اور اس رات میں کرنے کے اعمال ہماری کتاب "مواعظ نعیمیہ"اور"اسلامی زندگی"میں ملاحظہ کرو۔