Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
307 - 5479
حدیث نمبر 307
روایت ہے حضرت زہری سے وہ عروہ سے وہ عائشہ صدیقہ سے راوی فرماتی ہیں کہ میں اور حفصہ دونوں روزہ دارتھیں ۱؎ اور ہمارے سامنے وہ کھانا آیا جس کی ہمیں رغبت تھی ہم نے اس میں سے کھالیا حضرت حفصہ نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم دونوں روزہ دارتھیں ہمارے سامنے مرغوب کھانا آیا تو ہم نے اس سے کھالیا ۲؎ سرکار نے فرمایا اس کی جگہ ایک دن کی قضا کرو۳؎ ترمذی حافظین کی ایک جماعت نے اسے زہری سے انہوں نے حضرت عائشہ سے مرسلًا روایت کیا ۴؎ اور اس میں عروہ کا ذکر نہ کیا یہ ہی صحیح تر ہے اور روایت کیا ابوداؤد نے اسے عروہ کے مولے زمیل سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ۵؎
شرح
۱؎ اس جملہ سے معلوم ہوا کہ ان دونوں بزرگ بیبیوں کا یہ روزہ نفلی تھا قضائے رمضان یا نذر کا فرضی روزہ نہ تھا کہ فرضی روزہ توڑ دینے کی ہمت کوئی عام مسلمان بھی نہیں کرتا چہ جائیکہ ازواج مطہرات محض اچھا کھانا دیکھ کر ایک اہم عبادت توڑ دیں لہذا بعض شافعیوں کا اسے فرضی روزہ قرار دینا درست نہیں ان بزرگوں کی شان کے خلاف ہے۔

۲؎ یہ دونوں بزرگ سمجھیں کہ جب دعوت کے لیے نفلی روزہ توڑ دینا جائز ہے تو ہدیہ کے لیے بھی جائز ہونا چاہیے کہ دونوں قریبًا یکساں ہیں یہ ہی اجتہادی غلطی یا خطا تھی۔

۳؎ یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کیونکہ اقضیاء امر ہے اور امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔معلوم ہوا کہ اگر نفلی روزہ شروع کرکے توڑ دیا جائے تو اس کی قضا واجب ہوتی ہے اورجس کی قضاء واجب ہو وہ خود بھی واجب ہوتا ہے لہذا نفلی روزہ شروع کردینے سے واجب ہوجاتاہے۔شوافع فرماتے ہیں کہ یا تو یہ روزہ قضا یا نذر کا واجب روزہ تھا اس کا جواب تو ابھی عرض کر دیا گیا اور یا یہ حکم استحبابی ہے نہ کہ وجوبی کیونکہ نفل پہلے بھی نفل ہے اور بعد شروع بھی نفل،شروع کے بعد واجب ہوجانا اس کی نفلیت کے خلاف ہے مگر وہ حضرات بھی نفل حج وعمرہ کو شروع ہوجانے کے بعد واجب مانتے ہیں اور توڑ دینے یا چھوڑ دینے پر قضاء لازم سمجھتے ہیں لہذا ان کا یہ استدلال یہاں بھی کمزور ہے،نیز جب نذر مان لینے سے نفل واجب ہوجاتے ہیں تو شروع کردینے سے بھی واجب ہوجانے میں کوئی مضائقہ نہیں اس مسئلے پر بہت قوی دلائل ہیں جو ابھی کچھ پہلے عرض کئے جاچکے ہیں۔دارقطنی نے حضرت جابر سے اور ابوداؤد طیالسی نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی دعوت کی جب سب حضرات کھانے لگے تو ایک صاحب الگ بیٹھ گئے بولے میرا روزہ ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا توڑ دو اور اپنے بھائی میزبان کو خوش کرو اور اس کی قضاء کرلو۔(مرقات و لمعات)

۴؎ یہاں مرسل سے اصطلاحی مرسل مراد نہیں یعنی صحابی کا چھوٹ جانا بلکہ لغوی مرسل مراد ہے یعنی اسناد میں راوی کا رہ جانا جسے محدثین کے ہاں منقطع کہتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ جناب زہری و حضرت عائشہ کے درمیان عروہ ہیں جن کا اس اسناد میں ذکر نہیں۔

۵؎ یعنی اسناد میں بھی انقطاع ہے کیونکہ زمیل نے عروہ سے حدیث نہیں سنی،نیز زمیل مجہول شخص ہیں لہذا یہ اسناد ضعیف ہے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ یہ ضعف مضر نہیں کیونکہ ابن حبان وغیرہ نے عن جریر ابن حازم عن یحیی ابن سعید عن عروہ عن عائشہ روایت کی اور ابن ابی شیبہ نے عن خصیف عن سعید ابن جبیر عن عائشہ روایت کی اور طبرانی نے عن خصیف عن عکرمۃ عن ابن عباس عن عائشہ روایت کی اور بزاز نے عن حماد ابن ولید عن عبید اﷲ ابن عمرو عن نافع عن ابن عمر عن عائشہ روایت کی اور طبرانی نے عن محمد ابن عمرو عن ابی سلمہ عن ابی ھریرۃ عن عائشہ روایت کی۔جب اتنی صحیح اسنادیں موجود ہیں تو حدیث صحیح ہے اور اس سے دلیل پکڑنا درست لہذا مذہب حنفی نہایت ہی قوی ہے۔
Flag Counter