Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
306 - 5479
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 306
روایت ہے حضرت ام ہانی سے فرماتی ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن ہوا تو حضر ت فاطمہ زہرا آئیں اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھ گئیں اور ام ہانی حضور کے دائیں طرف تھیں ۱؎ تو ایک لونڈی ایک برتن لائی جس میں شربت تھا حضور کو پیش کیا آپ نے اس سے پیا پھر ام ہانی کو دے دیا انہوں نے پیا۲؎ پھر بولیں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے روزہ توڑ لیا میں تو روزہ دارتھی ۳؎ تو فرمایا کیا تم کوئی روزہ قضاءکررہی تھیں بولیں نہیں فرمایا اگر نفلی روزہ  تھا تو تمہیں کچھ ضررنہیں۴؎ (ابوداؤد،ترمذی،دارمی)اور احمد و ترمذی کی روایت میں اسی کی مثل ہے اور اس میں یہ ہے کہ آپ بولیں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں روزہ دارتھی تو فرمایا نفلی روزہ دار اپنے نفس کا خود مختار ہے اگر چاہے روزہ پورا کرے اگر چاہے افطار کرلے۵؎
شرح
۱؎ غالبًا مجلس کی یہ ترتیب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تھی کیونکہ ام ہانی فاطمہ زہرا کی نندبھی تھیں اور پھوپھی بھی،عمر میں بھی آپ سے بڑی تھیں اس لیے انہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں طرف بٹھالا اور ام ہانی کو دائیں طرف،اب بھی اجتماع کے موقع پر نشست گاہوں میں مرتبہ کے مطابق ترتیب چاہئیے۔ غالبًا یہ واقعہ ام ہانی کے اپنے گھر میں نہ ہوا بلکہ کسی دوسرے گھر میں ورنہ ام ہانی میزبانی کی خدمت خود انجام دیتیں۔خیال رہے کہ ام ہانی نے مکہ معظمہ سے ہجرت نہیں کی تھی۔

۲؎ سنت یہ ہے کہ مجلس میں پانی وغیرہ کا برتن پہلے بزرگ کی خدمت میں پیش کیا جائے،پھر داہنی طرف کو دور چلے کہ اگرچہ اس طرف چھوٹا آدمی یا بچہ ہی ہو اور بائیں طرف بڑا مگر دیا جائے داہنی طرف ہی اور یہاں تو اتفاقًا داہنی جانب ام ہانی تھیں جو رشتہ اور عمر میں فاطمہ زہرا سی بڑی تھیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عزیز قرابت دار مرد و عورت ایک دوسرے کا جوٹھا پانی پی سکتے ہیں۔جن روایات میں ہے کہ عورت مرد کا جوٹھا نہ پئیے نہ مرد عوت کا وہاں اجنبی لوگ مراد ہیں لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔

۳؎ سبحان اﷲ! کیا عجیب عمل ہے کہ ام ہانی نے پہلے روزہ توڑا پھر مسئلہ پوچھا،ان کے نزدیک حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا پس خوردہ تبرک پینا روزے سے افضل تھا،ان کے دل نے فتویٰ دیا کہ روزے کی قضاء یا کفارہ ادا کرلوں گی مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا جوٹھا پھر کہاں ملے گا،عشق کے رنگ نرالے ہیں۔شعر

 نیست ایں باراں ازیں ابر شماٍٍ			 ہست باراں دیگر و دیگر سما 

عشق کا مدرسہ ہی دوسرا ہے اور اس کے آسمان و زمین ہی کچھ اور۔

۴؎ یعنی اگر یہ روزہ نذر یا قضائے رمضان وغیرہ تھا تب تو اس کا توڑنا منع تھا اگر محض نفلی تھا تو توڑنا بالکل جائز اگرچہ اس کی قضاء واجب۔اس سے معلوم ہوا کہ مرید یا شاگرد اپنے پیر یا استاد کے تبرک کھانے کے لیے نفلی روزہ توڑ سکتا ہے دعوت کی طرح یہ بھی روزہ توڑنے کا ایک عذر ہے۔

۵؎ ان ظاہری الفاظ سے امام شافعی نے فرمایا کہ نفلی روزہ توڑ دینے سے قضاء واجب نہیں لیکن یہ دلیل ضعیف ہے کیونکہ یہاں گناہ کی نفی ہے نہ کہ قضاء کی۔قضاء کا حکم تو اگلی حدیث میں آرہا ہے۔اَمِیْرُ نَفْسِہٖ کا مطلب یہ ہے کہ نفلی روزہ دار کسی موقعہ اورمحل پر افطار بہتر سمجھے تو توڑ سکتا ہے۔اس حدیث پر بڑا اعتراض یہ ہے کہ فتح مکہ رمضان میں ہوئی ام ہانی اس دن مسافر نہ تھیں ان پر روزہ رمضان فرض تھا نفلی روزہ نہ رکھ سکتی تھیں اس لیے ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد میں کچھ ضعف ہے،نسائی نے کہا کہ اس کی اسناد میں بہت اختلاف ہے،امام منذری فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ثابت نہیں اور اگر صحیح ہو بھی تو یہاں فتح مکہ کے دن سے زمانہ فتح مکہ مراد ہے کیونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد مکہ میں عرصہ تک قیام فرمایا تھا لہذا یہ واقعہ ماہ رمضان کے بعد پیش آیا۔شیخ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے لیے مدینہ منورہ سے سفر رمضان میں ہوا مگر فتح بعد رمضان لیکن پہلی توجیہ قوی معلوم ہوتی ہے کیونکہ سارے مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ فتح مکہ بھی رمضان میں ہی ہوئی۔
Flag Counter