| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ام عمارہ بنت کعب سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے حضور کے لیے کھانا منگایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم بھی کھاؤ بولیں میں روزہ دار ہوں ۲؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب روزہ دار کے پاس کچھ کھایاجائے تو اسے فرشتے دعائیں دیتے ہیں جب تک کہ وہ فارغ ہوں ۳؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ آپ کا نام نسیبہ ابن کعب ابن عوف ہے،کنیت ام عمارہ،صحابیہ ہیں،انصاریہ ہیں،عاصم ابن زید کی بیوی ہیں،بیعت عقبہ اور بیعت رضوان میں حاضرتھیں،غزوہ احد میں آپ نے گیارہ زخم کھائے حتی کہ زخموں کی وجہ سے آپ کا ایک ہاتھ کاٹنا پڑا تھا رضی اللہ تعالٰی عنہا اس کے باوجود تمام غزووں میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں۔ ۲؎ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا انہوں نے نہ کھایا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ روزہ دار مہمان کی تواضع خاطر کھانے سے کرسکتاہے،ہاں رمضان میں روزہ توڑوں اور روزہ چوروں کو نہ کھانا کھلائے نہ ان کے لیے پکائے کہ یہ گناہ پر مدد ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ"۔دوسرے یہ کہ اگر مہمان کی ناراضی کا اندیشہ نہ ہو تو میزبان نفلی روزہ نہ توڑے اور مہمان سے عذرکر دے۔ ۳؎ کیونکہ یہ روزہ دار دو عبادتیں کررہا ہے ایک روزہ دوسرا کھاناکھاتے دیکھ کر صبر اس لیے اس کا اجروثواب بھی زیادہ ہے اور فرشتوں کی دعائیں نفع میں۔ظاہر یہ ہے کہ فرشتوں سے مراد اعمال لکھنے والے اور حفاظت کرنے والے فرشتے ہیں۔