| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم چاندنی کے روشن دنوں میں روزے نہ چھوڑتے تھے نہ گھر میں نہ سفر میں ۱؎(نسائی)
شرح
۱؎ یہاں مرقات نے فرمایا ایام بیض کے متعلق علماء کے نو قول ہیں جن میں سے زیادہ قوی قول یہ ہے کہ وہ چاند کی تیرھویں،چودھویں،پندرھویں راتیں ہیں،انہیں ایام بیض یا تو اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی راتیں اجیالی ہیں اور یا اس لیے کہ ان کے روزے دنوں کو نورانی اور اجیالا کرتے ہیں اور یا اس لیے کہ آدم علیہ السلام کے اعضاء جنت سے آکر سیاہ پڑگئے تھے،رب تعالٰی نے انہیں ان تین روزوں کا حکم دیا ہر روزے سے آپ کا تہائی جسم چمکیلا ہواحتی کہ تین روزوں کے بعد سارا جسم نہایت حسین ہوگیا۔