Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
297 - 5479
حدیث نمبر 297
روایت ہے حضرت حفصہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار کام نہ چھوڑتے تھے عاشورہ کا روزہ،بقر عید کے دس دن اور ہر مہینہ تین دن کے روزے ۱؎ اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں۔(نسائی)
شرح
۱؎ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات شریف تک یہ تینوں قسم کے روزے رکھے لہذا یہ سب سنت ہیں،بقر عید کے دس دن سے مراد نو دن ہیں ورنہ دسویں بقرعید کو روزہ حرام ہے یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثری عمل مراد ہے نہ کہ ہمیشہ کا لہذا یہ حدیث حضرت عائشہ صدیقہ کی اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں آپ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ کو بقرعید کے عشرہ میں روزہ رکھتے نہ دیکھا،بقر عید کا عشرہ بہت ہی بہترین زمانہ ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں بہترین ہیں کہ ان سب میں شب قدر ہے اور بقرعید کے پہلے عشرہ کے دن افضل ہیں کہ ان میں عرفہ کا دن ہے۔
Flag Counter