۱؎ یہ دونوں واقعے ہجرت کے بعد ہیں،ہجرت سے پہلے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی روزہ کا حکم نہیں دیا تھا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شروع اسلام میں عاشورہ کا روزہ فرض تھا کیونکہ اس کا حکم دینا اور عاشورہ آنے پرتحقیقات فرمانا کہ کس نے روزہ رکھا اور کس نے نہیں فرضیت کی علامت ہے۔رمضان کی فرضیت کے بعد عاشوراء کی فرضیت اٹھ گئی مگر سنیت باقی رہی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات شریف تک یہ روزہ رکھاہے۔مسلم،بخاری میں حضرت سلمہ ابن اکوع سے روایت ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے یہ اعلان کرایا کہ جس نے کچھ کھا لیا ہو وہ بقیہ دن کچھ نہ کھائے اور جس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھ لے کیونکہ آج عاشورہ ہے،یہ حدیث اس زمانہ کی ہے جب عاشورہ کا روزہ فرض تھا۔