۱؎ اس طرح کہ صرف اسی رات میں عبادت کو لازم کرلو یا سمجھ لو دوسری راتوں میں بالکل ہی غافل رہوبلکہ اور راتوں میں بھی عبادت کیا کرو،اس توجیہ پر حدیث بالکل صاف ہے یعنی جمعہ کی رات میں عبادت کرنا منع نہیں بلکہ اور راتوں میں بالکل عبادت نہ کرنا مناسب نہیں کہ یہ غفلت کی دلیل ہے،چونکہ جمعہ کی رات ہی زیادہ عظمت والی ہے،اندیشہ تھا کہ لوگ اس کو نفلی عبادتوں سے خاص کرلیں گے اس لیے اسی رات کا نام لیا گیا۔
۲؎ کیونکہ جمعہ ہفتہ بھر کی عید ہے صرف عید میں روزہ رکھنا کیسا۔لمعات میں امام مالک علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ کوئی فقیہ صرف جمعہ کے روزے کو منع نہیں کرتا بلکہ بعض فقہاء اراداۃً جمعہ ہی کا روزہ رکھتے ہیں۔ (اشعہ)خلاصہ یہ کہ تمام فقہاء کے ہاں یہ حدیث خلافِ اولٰی کے لیے ہے کیوں کہ آگے صراحۃً حدیث میں آرہا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کو بہت کم افطار کرتے،روزہ ہی رکھتے تھے۔
۳؎ مثلا کوئی شخص ہر گیارہویں یا بارہویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا عادی ہو اور اتفاق سے اس دن جمعہ آجائے تو رکھ لے اب خلاف اولی بھی نہیں،بعض لوگ مخصوص تاریخوں میں خاص عبادتیں کرنے کو منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنی طرف سے عبادت یا دن مقرر کرنا حرام ہے اور ان دو حدیثوں کی آڑ پکڑتے ہی،الحمدللہ اس جملے نے ان کے خیال کو باطل کردیا،صاف بتادیا کہ جمعہ کا روزہ مقرر کرنے کی وجہ سے حرام نہیں ہوا بلکہ اسکی وجوہ کچھ اور ہیں جو پہلے عرض کی گئیں ورنہ یہ تاریخوں کا مقرر کرنا کیوں درست ہوتا۔اس کی پوری بحث اس جگہ مرقات میں ملاحظہ فرمایئے۔