۱؎ یعنی نفلی روزہ صرف جمعہ کا نہ رکھے یا جمعرات جمعہ یا جمعہ ہفتہ دو دن روزے رکھے،اس کی تحقیق آگے آرہی ہے۔
۲؎ فتح القدیر میں ہے کہ امام ابوحنیفہ و امام محمد کے ہاں صرف جمعہ کا روزہ جائز ہے یہ ممانعت تنزیہی ہے وہ بھی بعض صورتوں میں جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔نفلی روزہ صرف جمعہ کا نہ رکھنا بہتر اس کی وجہ اﷲ رسول ہی جانتے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ چونکہ یہ دن غسل کرنے،کپڑے بدلنے،خطبہ سننے،نماز جمعہ پڑھنے وغیرہ عبادات کا ہے ممکن ہے روزے کی وجہ سے بندہ یہ کام بخوبی انجام نہ دے سکے جیسے حاجی کے لیے عرفے کے دن روزہ رکھنا بہتر نہیں کہ وہ اس دن روزہ رکھ کر آج کے کام اچھی طرح نہ کرسکے گا۔شارحین نے اوربہت سی وجہیں بیان کی ہیں لیکن یہ وجہ زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔بعض نے فرمایا کہ یہود کے ہاں ہفتہ کا دن افضل ہے اور عیسائیوں کے ہاں اتوار بہتر،وہ لو گ ان دنوں میں روزے رکھتے ہیں اگر مسلمان اپنے افضل دن یعنی صرف جمعہ کا روزہ رکھیں تو ان سے مشابہت ہوجائے گی۔واﷲ اعلم!