Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
28 - 5479
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 27
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ کی تو معافی دے دی ۱؎  مگر چاندی کی زکوۃ دو ہر چالیس میں ایک درہم ہے اور ایک سونوے میں کچھ نہیں جب دوسو کو پہنچیں تو ان میں پانچ درہم ہیں۲؎(ترمذی و ابوداؤد)اور ابوداؤد کی ایک روایت میں حضرت حارث ابن اعور سے ہے۳؎ وہ حضرت علی سے راوی زہیر کہتے ہیں مجھے خیال ہے حضرت علی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۴؎ کہ آپ نے فرمایا کہ چالیسواں حصہ دو ہر چالیس درہم میں ایک درہم ہے اور تم پر کچھ نہیں حتی کہ دو سو درہم پورے ہوجائیں تو جب دو سو درہم ہوجائیں تو ان میں پانچ درہم میں جو اس پر زیادہ ہو تو اسی حساب پر ہے۵؎ اور بکریاں میں ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری ہے۶؎ ایک سو بیس تک کہ اگر ایک زیادہ ہوجائے تو دو بکریاں دو سو تک اگر زیادہ ہوں تو تین بکریاں تین سو تک پھر اگر تین سو پر زیادہ ہوں تو ہرسینکڑے میں ایک بکری،اگر بکریاں انتالیس ہوں تو ان کا تم پر کچھ نہیں ۷؎ اور گایوں میں ہرتیس میں ایک سالہ بچہ ہے ۸؎  اور چالیس میں دو سالہ بچہ اور کام کاج کے جانوروں میں کچھ نہیں ۹؎
شرح
۱؎  گھوڑے سے مراد سواری کا گھوڑا اور غلام سے خدمت کا غلام مراد ہے یہاں گھوڑا اور غلام مثالًا بیان فرمایا گیا ورنہ حاجت اصلیہ میں گھرے ہوئے کسی مال کی زکوۃ نہیں یعنی میں نے ان چیزوں کی زکوۃ معاف کردی یہاں مرقات میں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم احکام شرعیہ کے مالک ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے معاف کردی یعنی اگر چاہتا تو ان سب کی زکوۃ واجب کردیتا۔

۲؎ حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ چاندی کا نصاب دوسو درہم یعنی ساڑھے باون تولہ ہے جس سے کم میں زکوۃ واجب نہیں،پھر دوسو کے بعد انتالیس درہم تک معافی چالیس پر ایک درہم اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ چاندی سونے کی زکوۃ میں دو نصابوں کے درمیان نصاب کے پانچ حصہ سے کم معاف رہتا ہے اور پانچویں حصہ پر زکوۃ بڑھتی ہے۔چنانچہ ساڑھے سات تولہ سونے کے بعد ڈیڑھ تولہ سے کم میں معافی ہوگی اور ڈیڑھ تولہ پر زکوۃ بڑھے گی،چاندی میں ساڑھے باون تولہ کے بعد سوا دس تولہ تک معافی اور ساڑھے دس تولہ پر زکوۃ بڑھے گی۔

۳؎  ان کا نام حارث ابن عبداﷲ ہمدانی ہے،کنیت ابو زہیر ہے،تابعی ہیں۔مشہور یہ ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں،بعض محدثین نے آپ میں جرح کی ہے،آپ نے حضرت علی سے کل چار حدیثیں روایت کی ہیں۔(مرقات وغیرہ)

۴؎  یعنی زہیر جو راویٔ حدیث ہیں وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یقین نہیں بلکہ گمان ہے کہ یہ حدیث مرفوع ہے موقوف نہیں،حضرت علی کا خود اپنا قول نہیں ہے بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔

۵؎ اس کی شرح ابھی گزر چکی۔خیال رہے کہ چاندی کی زکوۃ میں سکہ رائج الوقت کا اعتبار نہیں بلکہ وزن ملحوظ ہے مگر تجارتی سامان کی زکوۃ میں سکہ رائج الوقت معتبر ہے کیونکہ چاندی میں خود اس پر زکوۃ ہے مگر تجارتی مال میں اس کی قیمت پر ہے لہذا دو سو درہم کا لفظ بہت وسیع ہے،چوری کی سزا میں بھی مسروقہ مال کی قیمت کا اعتبار ہے۔(مرقاۃ)اس حدیث کی بنا پر صاحبین فرماتے ہیں کہ دوسو درہم کے بعد ہر درہم پر زکوۃ واجب ہے کیونکہ مَازَادَ عام ہے مگر امام اعظم فرماتے ہیں کہ چالیس درہم سے کم میں زکوۃ نہیں،یہاں مَازَادَ سے مراد چالیس درہم ہیں جیسا کہ اوپر کے جملہ سے معلوم ہوا اور دوسری احادیث نے اس کی تصریح فرمادی،نیز ابوداؤد کی اس دوسری حدیث کی اسناد میں حارث و عاصم ہیں ان دونوں پرمحدثین نے سخت جرح کی ہے لہذا یہ حدیث قابل سند نہیں۔غرضکہ فما زاد فعلی حساب ذالك کی عبارت مجروح ہے لہذا حق یہ ہی ہے کہ دوسو درہم کے بعد چالیس درہم سے کم پر زکوۃ نہ ہوگی۔

۶؎  یہ جملہ بھی تمام احادیث صحیحہ کے خلاف ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ ہر چالیس بکریوں سے ایک بکری زکوۃ دی جائے تو ایک سوبیس میں تین بکریاں واجب ہوں،حالانکہ چالیس کے بعد ایک سو بیس تک زکوۃ نہیں بڑھتی۔مرقات نے فرمایا کہ لفظ کُلْ زائد ہے،بعض نے فرمایا کہ یہ کُلْ افرادی نہیں بلکہ بیان صنف کے لیے ہے یعنی بکری،بھیڑ دنبہ وغیرہ ان تمام میں چالیس پر زکوۃ ہے لہذا یہ آئندہ حدیث کے بھی خلاف نہیں اور دیگر احادیث کے بھی مخالف نہیں۔

۷؎ اس کی شرح پہلے ہوچکی ہے۔خیال رہے کہ بکریوں کی زکوۃ میں بکری کا چھوٹا بچہ نہ دیا جائے گا بلکہ جوان بکری یا بکرا جسے بکری کہہ سکیں مگر اس میں اونٹ و گائے کی طرح عمر مقرر نہیں کہ اتنے سال یا اتنے ماہ کی بکری۔

۸؎  یعنی تیس گائیوں میں یکسالہ بچھڑی یا بچھڑا واجب ہے۔یکسالہ بچھڑے کو تبیعہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس وقت بچہ اپنی ماں کے تابع ہوتا ہے،اونٹ کی زکوۃ میں صرف مادہ ہی وصول کی جاتی ہے مگر گائے کی زکوۃ میں فرمایا وہ دونوں لیے جاسکتے ہیں کیونکہ بعض لحاظ سے مادہ اچھی ہے کہ نسل دیتی ہے اور بعض وجوہ سے نر اچھا کہ کھیتی باڑی میں کام آتا ہے۔

۹؎  اسی طرح اگر اونٹ کام کاج کے لیے ہوں تو ان میں زکوۃ نہیں پھر علوفہ یعنی گھر چارہ کھانے والی میں زکوۃ نہیں۔
حدیث نمبر 28
روایت ہے حضرت معاذ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن میں بھیجا ۱؎  تو حکم دیا کہ گائے میں ہرتیس سے ایک سالہ نر یا مادہ وصول کریں اور ہر چالیس سے دو سالہ۲؎ (ابوداؤد،ترمذی،نسائی،دارمی)
شرح
۱؎ وہاں کا حاکم بناکر،چونکہ اس زمانہ میں اسلامی حکام لوگوں کے ظاہری مال یعنی جانوروں اور زمینوں کی زکوۃ بھی وصول کرتے تھے جو بعد میں اپنے مصرف پر بہت احتیاط سے خرچ کردی جاتی تھی اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ تلقین فرمائی۔

۲؎  بقر کے معنی ہیں چیرنا پھاڑنا،چونکہ بیل زمین میں ہل چلاتے ہیں جن سے زمین چر جاتی ہے اس لیے اسے بقر کہتے ہیں،بقرہ میں تا تانیث کی نہیں،وحدۃ نوعی یا صنفی کی ہے لہذا یہ لفظ بیل پر بولا جاتا ہے،چونکہ عرب میں بھینس نہیں ہوتی اس لیے ان کا ذکر نہ فرمایا ورنہ بھینس کی زکوۃ بھی گائے کی طرح ہے۔خلاصہ یہ کہ گائے بھینس کا نصاب تیس ہے تیس میں ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی واجب ہے،پھر چایس تک زکوۃ نہ بڑھے گی اور چالیس میں دوسالہ بچھڑا یا بچھڑی واجب،ساٹھ میں دو تبیعے اور ستر میں ایک تبیعہ اور ایک مسنہ۔غرضکہ ہرتیس پر تبیعہ واجب ہوتا رہے گا(یکسالہ)اور ہر چالیس پر مسنہ(دو سالہ)چالیس کے بعد ساٹھ سے کم میں بہت اختلاف ہے،صاحبین کے ہاں اس زیادتی سے زکوۃ نہ بڑھے گی،امام اعظم سے اس میں تین روایتیں ہیں۔اس کی تحقیق ہدایہ کی شرح میں دیکھو،یہ حدیث اگرچہ منقطع ہے کیونکہ اس میں مسروق نے حضرت معاذ سے روایت کی مگر انہوں نے معاذ سے ملاقات نہیں کی لیکن چونکہ بہت احادیث سے اسے تقویت پہنچ چکی ہے اس لیے قابل عمل ہے اسی لیے ترمذی نے اسے احسن فرمایا۔
Flag Counter