Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
27 - 5479
حدیث نمبر 27
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جانوروں کا زخم باطل ہے ۱؎ اور کنواں باطل ہے اور کان باطل ہے ۲؎ اور کان میں پانچواں حصہ ہے ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی اگر کسی کا کوئی جانور گھوڑا،گائے،بھینس بدک کر مالک سے چھوٹ جائے اورکسی کو زخمی کردے تو مالک پر اس زخم کا قصاص یا تاوان نہ ہوگا کیونکہ یہاں مالک بےقصور ہے ہاں اگر مالک کی غفلت یا اس کے قصور سے جانور نے کسی کو جانی یا مالی نقصان پہنچایا تو مالک ذمہ دار ہے جیسے کوئی اپنا کٹ کھنا کتا دن میں کھلا چھوڑے اور وہ کسی کو زخمی کردے یا کسی کا جانور ماردے۔ان شاءاﷲ اس کی پوری تحقیق کتاب القصاص میں آئے گی۔

۲؎ یعنی اگر کوئی شخص کسی کے کنوئیں یا کان میں گر کر مرجائے تو کنویں اور کان والے پر ضمان نہیں کہ وہ بےقصور ہے،ہاں اگر کوئی شخص راستہ میں کنواں یا گڑھا کھود دے جس میں کوئی گر کر مرجائے اب یہ ذمہ دار ہے کیونکہ مجرم ہے۔

۳؎ یعنی اگر کسی کی زمین میں سونے چاندی یا کسی دھات کی قدرتی کان نکل آئے  وہ پانچواں حصہ حکومت اسلامیہ کو دے گا اور چار حصہ اپنے خرچ میں لائے گا۔خیال رہے کہ رکاز رکز سے بنا جس کے معنے ہیں چھپنا یا خفیہ ہونا اسی لیے پاؤں کی آہٹ کو رکز کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْ تَسْمَعُ لَہُمْ رِکْزًا"۔جانور کے لات مار دینے کوبھی رکزکہتے ہیں۔اصطلاح میں رکز کان کو بھی کہتے ہیں اور دفینہ یعنی گاڑھے ہوئے خزانہ کو بھی۔امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں رکاز سے کان مراد ہے اور امام شافعی کے ہاں دفینہ،امام اعظم کی دلیل وہ حدیث ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا رکاز کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ سونا جسے رب تعالٰی نے زمین میں قدرتی پیدا فرمایا۔(بیہقی عن ابی ھریرہ)نیز یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے رکاز کا ذکر معدن کے ساتھ کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی معدن ہی ہے۔مرقات نے فرمایا کہ کان سے بعض چیزیں گل جانے والی پیدا ہوتی ہیں جیسے سونا چاندی،لوہا اورباقی دھاتیں اور بعض پتلی جیسے پانی،تیل اور تار کول اور بعض چیزیں خشک نہ گلنے والی جیسے چونا،ہڑتال،ہر قسم کے پتھر،یاقوت،نمک وغیرہ۔امام اعظم کے ہاں صرف دھاتوں میں خمس واجب ہے اور امام شافعی کے ہاں صرف سونے چاندی میں،وہ باقی دھاتوں کو شکار کے جانور کی مثل مانتے ہیں جس کو مل جائے اسی کی۔(لمعات،مرقات،اشعہ)
Flag Counter