۱؎ اس حدیث کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جو عامل زکوۃ وصول کرنے میں زیادتی کرے کہ یا زیادہ لے یا بہترین مال لے وہ ایسا ہی گنہگار ہے جیسے زکوۃ نہ دینے والا یا جو مالک زکوۃ دینے میں زیادتی کرے کہ یا تو کم دینے کی کوشش کرے یا ناقص یا ٹال مٹول کرے وہ ایسا ہی گنہگار ہے جیسے زکوۃ نہ دینے والا۔علماء فرماتے ہیں کہ زکوۃ خوشدلی سے دو،اسے عبادت سمجھو ٹیکس نہ سمجھو،مستحق کو دو،جان بوجھ کر غیرمستحق کو نہ دو،دے کر احسان نہ جتاؤ،اگر اپنے عزیزفقیر کو دی ہے تو اسے طعنہ نہ دو بلکہ اس کاذکر کھبی بھی نہ کرو کہ ان سے صدقہ باطل ہوجاتاہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰی"۔اور یہ سب حد سے بڑھنے میں داخل ہیں۔