۱؎ بقرعید کے تین دن بعد تک یعنی ۱۳ تاریخ تک اہلِ عرب قربانی کے گوشت سکھاتے تھے اس لیے ان دنوں کو تشریق یعنی سکھانے اور دھوپ دکھانے کا زمانہ کہا جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ یہ چار دن بندوں کی مہمانی کے ہیں جن میں رب تعالٰی میزبان بندے مہمان اس لیے ان دنوں میں روزہ رکھنا گویا رب تعالٰی کی دعوت سے انکار،اس زمانہ میں خوب کھاؤ خوب پیئو اور خوب اﷲ کا ذکر کرو،یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفصیل ہے جس نے بتایا کہ وہاں بقر عید سے مراد یہ چاروں دن تھے۔
۲؎ احمد،طبرانی،دار قطنی،ابن ابی شیبہ وغیرہم نے مختلف الفاظ سے روایتیں کیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منٰی کے زمانہ میں اعلان کراتے تھے،صحابہ منٰی کے بازار میں شورکرتے پھرتے تھے کہ خبردار ایام تشریق میں روزے نہ رکھنا یہ دن کھانے پینے اور اﷲ کے ذکر کے ہیں۔