۱؎ چونکہ حضرت عائشہ صدیقہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حال نگاہ میں رکھتی تھیں اس لیے سرکار کے حالات زیادہ تر ام المؤمنین ہی سے پوچھے جاتے تھے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مہینہ میں مختلف روزے رکھتے تھےکبھی زیادہ کبھی کم مگر تین دن سے کم کبھی نہ رکھتے تھے،اکثر تیرہویں،چودھویں، پندرھویں کے روزے رکھتے تھے،کبھی ان کے علاوہ اور تاریخوں میں بھی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ان تین تاریخوں میں روزے رکھتے تھے کیونکہ وہاں اکثری حالت کا ذکر ہے۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ ان تین روزوں کی تاریخ میں دس۱۰ قول ہیں۔