۱؎ یا تو پوچھا گیا کہ اس دن میں روزہ رکھنا کیسا ہے اور اس کا کیا ثواب ہے یا یہ کہ یارسول اﷲ آپ ہر پیر کو روزہ کیوں رکھتے ہیں اس میں کیا خصوصیت ہے۔(مرقات و لمعات)
۲؎ یعنی پیر کے دن دنیا کو دو نعمتیں ملیں:ایک میری تشریف آوری اور دوسرے نزول قرآن کی ابتداء کہ غار حرا میں پہلی وحی "اِقْرَاۡ بِاسْمِ"الایہ پیر کے دن ہی آئی لہذا اس دن روزہ رکھنا بہت ہی بہتر ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ وقت اور جگہ اشرف واقعات کی وجہ سے اشرف ہوجاتے ہیں۔ (مرقات)دوسرے یہ کہ حضو ر انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کریمہ اﷲ تعالٰی کی بڑی ہی نعمت ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نعمتوں میں شمار کیا،رب تعالٰی نے صرف اس نعمت پر مَنَّ فرما کر احسان جتایا کہ فرمایا:"لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤۡمِنِیۡنَ"الایہ۔تیسرے یہ کہ اہم واقعات کی یادگاریں مناناسنت سے ثابت ہے۔چوتھے یہ کہ یادگار میں کھیل کود نہ ہونا چاہئیے بلکہ عبادتیں ہوں اس لیے میلاد شریف،عید معراج،عرس وغیرہ کا ثبوت ہوتاہے۔پانچویں یہ کہ امام مالک کے ہاں پیر کا دن جمعہ سے بھی افضل ہے،ان کی دلیل یہ حدیث بھی ہے۔