Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
272 - 5479
حدیث نمبر 272
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا آپ روزے کیسے رکھتے ہیں تو اس کی بات سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے ۱؎ جب حضرت عمر نے آپ کی ناراضی دیکھی تو عرض کیا ہم اﷲ کی ربوبیت اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفےٰ کے نبی ہونے سے راضی ہیں ہم اﷲ و رسول کے غضب سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں ۲؎ حضرت عمر یہ بار بار کہتے رہے حتی کہ حضور کی ناراضی جاتی رہی ۳؎ پھر حضرت عمر نے عرض کیا یارسول اﷲ جو ساری عمر روزے رکھے وہ کیسا فرمایا نہ اس نے روزے رکھے نہ افطار کیا یا فرمایا نہ روزہ رکھ سکا اور نہ افطار کرسکا۴؎ عرض کیا جو دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا کیا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ۵؎ عرض کیا جو ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا یہ داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں ۶؎ عرض کیا جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے وہ کیسا فرمایا میری تمنا ہے کہ مجھے یہ طاقت ملتی ۷؎ پھر فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر ماہ میں تین دن کے روزے اور رمضان سے رمضان تک کے روزے ساری عمر کے روزے ہیں۸؎عرفہ کے دن کا روزہ مجھے اﷲ کے کرم پر امید ہے کہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے کا کفارہ ہوجائے ۹؎ اور عاشورہ کے دن روزہ مجھے اﷲ کے کرم پر امید ہےکہ پچھلے سال کا کفارہ بنادے۔(مسلم)
شرح
۱؎ چند وجہ سے یہ ناراضی ہوئی:ایک یہ کہ سوال میں بے ادبی کا شائبہ ہے،سائل کو چاہئیے کہ اپنے متعلق سوال کرے نہ کہ مفتی کے بارے میں،انہیں پوچھنا چاہئیے تھا کہ میں کس طرح روزے رکھا کروں۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات مختلف تھے آپ کبھی زیادہ روزے رکھتے تھے کبھی کم تو جواب دشوار تھا۔تیسرے یہ کہ بہت سے نیک اعمال حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کم کرتے تھے تاکہ امت پر دشواری نہ ہو ان پر آسانی رہے۔چوتھے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ اسلام حقوق ازواج اور سلطنت کے انتظام، مہمانوں کی تواضع میں زیادہ مشغول رہتے تھے جس کی وجہ سے روزے کبھی کم رکھتے تھے۔پانچویں یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑے اعمال پر وہ ثواب ملتا تھا جو دوسروں کو زیادہ اعمال پر بھی نہیں ملتا۔ممکن تھا کہ وہ سائل حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے سن کر انہیں کم سمجھتا جیسے بعض لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات سن کر انہیں کم جانا۔(مرقات و اشعہ ولمعات)

۲؎ یعنی میں سارے مسلمانوں کی طرف سے عرض کرتا ہوں کہ ہم سے جو بے ادبیاں سرزد ہوجاتی ہیں ان کی وجہ یہ نہیں کہ ہمیں آپ کے مراتب کا انکار ہے بلکہ محض درباری آداب سے ناواقفیت کی بنا پر ہے۔اعلیٰ حضرت نے کیا خوب فرمایا۔شعر

سرکار ہم گنواروں میں طرز ادب کہاں		ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے

مرقات نے یہاں فرمایا کہ چونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی پر رب تعالٰی بھی ناراض ہوجاتا ہے اس لیے جناب عمر نے اﷲ کے غضب کا بھی ذکر کیا۔خیال رہے کہ اﷲ رسول کے غضب سے سوائے رب کی بارگاہ کے کہیں پناہ نہیں مل سکتی۔

۳؎ معلوم ہوا کہ عاجزی اور خوشامد بڑی اکسیرہے۔شعر

عجز کار انبیاء و اولیاء ست 			عاجزی محبوب درگاہ خداست

۴؎ ایسا شخص ہمیشہ دن میں کھانے سے محروم رہا اور روزوں کا ثواب بھی نہ پاسکاکیونکہ سال میں پانچ دن روزے منع تھے وہ ان دنوں میں بھی روزے رکھ گیا گنہگار ہوا یا یہ حکم اس کے متعلق ہے جو ہمیشہ کے روزوں پر قادر نہ ہو بہت مشقت اٹھاکر اورنفس کو ہلاکت میں ڈال کر روزے رکھے اور ان روزوں کی وجہ سے حق والوں کے حقوق ادا نہ کرسکے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضرت ابو طلحہ انصاری اور حمزہ ابن عمرو اسلمی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میں ان پانچ دنوں کے سواء ہمیشہ روزے رکھتے تھے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مطلع ہونے پر منع نہ کیا،نیز بیہقی شریف میں ہے کہ جو ہمیشہ روزے رکھے اس پر دوزخ ایسی تنگ ہوجائے گی جیسے نوے کاعدد کہ کلمہ کی انگلی کا کنارہ انگوٹھے کی جڑ میں لگادیا جائے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہ تنبیہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ہمیشہ روزے رکھنے کی وجہ سے ایسے عادی ہوجائیں کہ انہیں روزے میں تکلیف ہو۔(لمعات و مرقات)لہذا امام اعظم ابوحنیفہ کا چالیس سال مسلسل روزے رکھنا اس عتاب کی زد میں نہیں آتا۔

۵؎ یعنی عام لوگوں پربھی دشوار ہے اس سے بھی لوگوں کے سارے کاروبار بند ہوجائیں گے۔اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ ممانعت کی وجہ لوگوں کی کمزوری ہے اگر کسی میں ہمیشہ روزے رکھنے کی طاقت ہو جس سے اس کا کوئی کام بند نہ ہو تو اس کے لیے وہی افضل ہے۔

۶؎  یعنی آپ ہمیشہ یوں ہی روزے رکھتے تھے یہ بہتر طریقہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ عوام پر یہ بھی مشکل ہے یہ تو داؤد علیہ اسلام ہی تھے جو اس طرح روزے رکھ گئے دوسرے معنے زیادہ ظاہر ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہورہا ہے اور دوسری حدیثیں پہلے معنے کی تائیدکرتی ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین روزے داؤد علیہ السلام کے پاس ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ عمل اتنا کرو جوتمہیں علم سے نہ روکے اور علم میں اتنے مشغول ہونا جو تمہیں اعمال سے نہ روکے،درمیانی چال اچھی۔

۷؎  یعنی مجھ پر امت کا بوجھ،ازواج کے حقوق،مملکت کے انتظامات نہ ہوتے تو میں اسی طرح روزے رکھا کرتا،اگر میں ایسے روزے رکھنے لگوں تو کمزور مسلمان بھی اس سنت پر عمل کرنے لگیں جس سے ان کے کاروبار بند ہوجائیں گے۔یہاں طاقت رکھنے سے مرادموقعہ پاناہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم روزہ وصال رکھاکرتے تھے کہ وہ ہمیشہ نہ رکھتے تھے کبھی کبھی،پھربھی صحابہ کو اس سے منع فرمادیا لہذا اس عبادت سے کوئی دھوکہ نہ کھائے اور یہ نہ سمجھے کہ نعوذباﷲ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کمزور تھے اور آپ میں ان روزوں کی بھی طاقت نہ تھی۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامان حضرت بایزید بسطامی نے ایک بار تین سال تک پانی نہ پیا،اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خان صاحب قدس سرہ نے ایک بار انتیس دن کچھ نہ کھایا اورکسی کام میں فرق نہ آیا۔یہ واقعہ مجھے میرے مرشد برحق صدرالافاضل مولانا نعیم الدین صاحب نے فرمایا۔ہر مہینہ کی تیرھویں،چودھویں،پندرھویں تاریخ کے روزے رکھ لیے جائیں اور پورے ماہ رمضان کے روزے رکھے جائیں تو اس سے ساری عمر کے روزوں کا ثواب مل جاتا ہے۔رب تعالٰی فرماتاہے:"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"۔جب ایک کا دس ملتا ہے تو ان شاءاﷲ! تین روزوں میں تیس کا ثواب ملے گا اس حساب سے ساری عمر کے روزے ہوجائیں گے یہ سب رحمتیں اس رحمت والے محبوب کے صدقے سے ہیں۔صلی اللہ علیہ وسلم

۸؎  پہلے عرض کیا جاچکا کہ یہ صِیام مصدرہے  نہ کہ صوم یا صائم کی جمع یعنی ذی الحجہ کی نو تاریخ کا روزہ اگلے پچھلے دو سال کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور اگر گناہ صغیرہ نہ ہوں تو درجے بلندکردیتاہے،گناہ کبیرہ بغیر توبہ اور بندوں کے حق بغیر ادا کئے معا ف نہیں ہوتے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ آئندہ ایک سال کے گناہ مٹانے کے معنے یہ ہیں کہ اسے گناہ سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث غیر حاجیوں کے لیے ہے حاجی کے لیے عرفات میں اس دن روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔

۹؎ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورے  کے  روزے  سے  نویں  بقرعید کا  روزہ  افضل  ہےکیونکہ  عاشورہ  کا روزہ  تو  ایک  سال  کے  گناہوں  کا کفارہ ہے  اور عرفہ  کا  روزہ  دو  سال  کا   مگر  عاشورہ  کا دن عرفے کے دن سے بعض اعتبار سے افضل ہے۔لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلا ف نہیں جس میں عاشورے کے دن کی افضلیت بیان کی گئی۔
Flag Counter