| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بقر عید کے عشرہ میں کبھی روزہ رکھتے نہ دیکھا ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ اس میں ام المؤمنین اپنے علم کی نفی کررہی ہیں نہ کہ اصل روزے کی لہذا یہ حدیث نسائی کی اس روایت کے خلاف نہیں کہ آپ نویں بقر عید کو روزہ رکھتے تھے،نیز سرکار نے فرمایا کہ بقر عید کے پہلے عشرے کا ہر روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور اس میں ہر رات کا قیام شب قدر کے قیام کے برابر ہے۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ بعد رمضان بقر عید کے پہلے عشرے کی عزت ہے۔خیال رہے کہ اگر نفی اور ثبوت کی احادیث میں تعارض ہو تو ثبوت والی احادیث کو ترجیح ہوتی ہے۔(مرقات)