| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ام الفضل بنت حارث سے ۱؎ کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق گفتگو کی بعض نے کہا کہ حضور روزہ دار ہیں اور بعض نے کہا کہ حضور روزہ دار نہیں ۲؎ تو ام الفضل نے ایک پیالہ دودھ حضور انور کی خدمت میں بھیجا جب کہ آپ عرفات میں اپنے اونٹ پر قیام فرما تھے تو آپ نے پی لیا ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ کا نام لبابہ ہے،حضرت عباس کی بیوی عبداﷲ ابن عباس و فضل ابن عباس کی والدہ ہیں،ام المؤمنین حضرت میمونہ کی بہن ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔ ۲؎ یہ واقعہ حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن ہوا جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں قیام فرما تھے۔خیال رہے کہ یہاں صیام مصدر ہے جمع نہیں جیسے قیام کبھی مصدر ہے کبھی جمع،صیام صوم کی جمع بھی آئی ہے اور صائم کی بھی اور مصدر بھی۔ ۳؎ سبحان اﷲ! ام الفضل کی فراست پر قربان جاؤں کہ آپ نے نہایت آسانی سے ان کا جھگڑا ختم کردیا اور دودھ بھیجا کیونکہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ مرغوب تھا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ عرفہ کا روزہ غیرحاجی کے لیے سنت ہے حاجی کے لیے سنت نہیں بلکہ ایسے کمزور کو جو روزہ رکھ کر ارکان حج ادا نہ کرسکے مکروہ ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹ پر دودھ پینا اسی کے اظہار کے لیے تھا۔