| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا اس زمین میں جسے آسمان یا چشمے سیراب کریں یا ہو فارغ ۱؎ اس میں دسواں حصہ ہے اور جسے پانی کھینچ کر سیراب کیا جائے اس میں بیسواں حصہ ہے ۲؎ (بخاری)
شرح
۱؎ عربی میں عثریٰ وہ زمین کہلاتی ہے جو پانی سے قریب ہونے کی وجہ سے خود بخود تر رہتی ہو اور اس کا مالک اسے پانی دینے سے فارغ ہو۔حدیث شریف میں ہے کہ عثری آدمی برا ہے یعنی جو دین و دنیا سے فارغ ہو کر کچھ کام نہ کرے وہ بُرا ہے۔(ازمرقات و اشعہ)نیز جس درخت کی جڑیں گہرائی میں پہنچ کر زمین کی قدرتی تری خود لے لیں اسے عثریٰ کہتے ہیں۔ ۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ جس کھیت میں پانی دینے پر مالک کا خرچ ہو اس کی زکوۃ بیسواں حصہ ہے ورنہ دسواں۔ کھینچنے میں کنوئیں سے،نہر سے،دریا سے کھینچنا سب شامل ہے۔