۱؎ ظاہر یہ ہے کہ محرم سے مراد عاشورہ کا دن ہے نہ کہ سارا ماہ محرم ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزے زیادہ رکھا کرتے،چونکہ عاشورہ کا دن محرم میں واقع اور عاشورہ میں بڑے اہم واقعات ہوچکےہیں:آدم علیہ السلام کی توبہ کی قبولیت،نوح علیہ السلام کی کشتی کا جودی پہاڑ پرٹھہرنا،یعقوب علیہ السلام کا اپنے فرزند یوسف علیہ السلام سے ملنا،فرعون کا غرق اور موسیٰ علیہ السلام کی نجات،ایوب علیہ السلام کی شفا،یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ سے باہر آنا وغیرہ عاشورہ ہی کے دن ہوئے،بعد میں شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ اور قیامت کا آنا اسی دن میں ہونے والا تھا اس لیے سارے محرم کو اﷲ کا مہینہ فرمایا گیا یعنی اﷲ کے محبوبوں کا مہینہ کہ جو اﷲ کے بندوں کا ہوجائے وہ اللہ کا ہوجاتا ہے اورجس دن یا جس مہینہ میں کوئی اہم کام ہوا ہو اس میں عبادتیں کرنا بہتر ہے لہذا ربیع الثانی کی گیارہویں،ربیع الاول کی بارھویں،رجب کی ستائیسویں افضل تاریخیں ہیں اور ان میں عبادات،روزہ،نوافل،میلاد شریف وغیرہ کرنا بہت بہتر ہے۔یہ حدیث بہت سے صوفیانہ و عالمانہ مسائل کا ماخذ ہے۔صوفیائے کرام بہت سے اعمال کی زکوۃ عاشورہ کے دن ادا کرتے ہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھئے۔
۲؎ فرض سے مراد نماز پنجگانہ ہے مع سنن مؤکدہ اور وتر کے،اور رات کی نماز سے مرادتہجد ہے یعنی فرائض وتر اورسنن مؤکدہ کے بعد درجہ نمازِ تہجد کاہے کیوں نہ ہو کہ اس نماز میں مشقت بھی زیادہ ہے اور خصوصی حضور بھی غالب،یہ نماز حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ"۔رب تعالٰی نے تہجد پڑھنے والوں کے بڑے فضائل بیان فرمائے:"تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ"اور فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیٰمًا"وغیرہ۔فقیر کی وصیت ہے کہ ہر مسلمان ہمیشہ تہجد پڑھے اور اس نماز کا ثواب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ہدیہ کردیا کرے بلکہ انہی کی طرف سے ادا کیا جائے ان شاءاﷲ! وہاں سے بہت کچھ ملے گا۔