Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
268 - 5479
حدیث نمبر 268
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا کہ آپ کسی دن کے روزوں کو دوسرے دنوں پر بزرگی دے کر تلاش کرتے ہوں ۱؎ سوائے اسی دن یعنی عاشوراء کے دن اور اس مہینے یعنی ماہ رمضان کے ۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی اس کو بہت بہتر بھی سمجھتے ہوں اور مبالغہ سے اس کی جستجو بھی کرتے ہوں اور سال بھر تک اس کا انتظار فرماتے ہوں یعنی آپ کا انتظار اور تلاش کرنا اتفاقًا نہ تھا بلکہ ان کو سب سے افضل بیان کرنا تھا۔

۲؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنوں میں عاشورے کے دن کو بہت افضل جانتے تھے اورمہینوں میں رمضان کے مہینہ کو۔عاشورے کی افضلیت کے وجوہ ابھی عرض کئے گئے۔ماہ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے، اس میں شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے اس کا آخری عشرہ اعتکاف کا زمانہ ہے،اس مہینہ میں جبریل امین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے،نیز اس مہینہ میں دوزخ بند رہتی ہے جنت کے دروازے کھلے رہتے ہیں،شیطان قید ہوجاتے ہیں اس لیے یہ مہینہ دوسرے مہینوں سے افضل ہے۔خیال رہے کہ قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور ہجرت سے پہلے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی عمل تھا ہجرت کے بعد اسلام میں اس دن کا روزہ فرض ہوا،پھررمضان کی فرضیت سے اس روزے کی فرضیت تو منسوخ ہوگئی مگر سنیت اور استحباب اب بھی باقی ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ صوم عاشورہ کا افضل اور یوم عرفہ کا افضل یعنی نویں ذی الحجہ کہ وہ حج کا دن ہے لہذا یہ حدیث عرفہ کی افضلیت کی حدیث کے خلاف نہیں۔
Flag Counter