| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا یا کسی اور سے پوچھا اور عمران سن رہے تھے تو حضور نے فرمایا اے ابو فلاں کیا تم نے آخر ماہ شعبان کے روزے نہ رکھے ۱؎ وہ بولے نہیں فرمایا جب یہ روزے رکھ چکو تو دو دن روزے رکھ لینا ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ سرر اور اسرار مہینہ کے اول دنوں کو بھی کہتے ہیں،درمیانی کو بھی اور آخر کو بھی مگر زیادہ آخری رات کو کہاجاتا ہےکیونکہ اس میں چاند بالکل چھپا ہوتا ہے،بعض لوگوں نے یہاں اول یا درمیانی مہینہ مراد لیا ہے کیونکہ شعبان کی آخری تاریخ میں روزہ منع ہے جیساکہ گزرچکا مگر لمعات،اشعۃ اللمعات،مرقات وغیرہ نے فرمایا کہ یہاں آخری کے معنے ہی میں ہے یہ صاحب ہر مہینہ کے آخر روزہ رکھنے کے عادی تھے یا اس کی منت مان چکے تھے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت سن کر انہوں نے شعبان کے آخر میں روزہ نہ رکھا تب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔ ۲؎ یعنی ہماری ممانعت ان لوگوں کے لیے ہے جو صرف شعبان کے آخر میں روزے رکھیں،تم چونکہ ہر ماہ آخر میں دو روزوں کے عادی ہو یا نذر مان چکے ہو اس لیے تم بعدعید اس کے عوض دو روزے رکھ لینا۔(لمعات ومرقات)اس شرح سے حدیث بالکل واضح ہوگئی اور اس پرکوئی اعتراض نہ رہا۔