Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
266 - 5479
حدیث نمبر 266
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا یا کسی اور سے پوچھا اور عمران سن رہے تھے تو حضور نے فرمایا اے ابو فلاں کیا تم نے آخر ماہ شعبان کے روزے نہ رکھے ۱؎ وہ بولے نہیں فرمایا جب یہ روزے رکھ چکو تو دو دن روزے رکھ لینا ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ سرر اور اسرار مہینہ کے اول دنوں کو بھی کہتے ہیں،درمیانی کو بھی اور آخر کو بھی مگر زیادہ آخری رات کو کہاجاتا ہےکیونکہ اس میں چاند بالکل چھپا ہوتا ہے،بعض لوگوں نے یہاں اول یا درمیانی مہینہ مراد لیا ہے کیونکہ شعبان کی آخری تاریخ میں روزہ منع ہے جیساکہ گزرچکا مگر لمعات،اشعۃ اللمعات،مرقات وغیرہ نے فرمایا کہ یہاں آخری کے معنے ہی میں ہے یہ صاحب ہر مہینہ کے آخر روزہ رکھنے کے عادی تھے یا اس کی منت مان چکے تھے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت سن کر انہوں نے شعبان کے آخر میں روزہ نہ رکھا تب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔

۲؎ یعنی ہماری ممانعت ان لوگوں کے لیے ہے جو صرف شعبان کے آخر میں روزے رکھیں،تم چونکہ ہر ماہ آخر میں دو روزوں کے عادی ہو یا نذر مان چکے ہو اس لیے تم بعدعید اس کے عوض دو روزے رکھ لینا۔(لمعات ومرقات)اس شرح سے حدیث بالکل واضح ہوگئی اور اس پرکوئی اعتراض نہ رہا۔
Flag Counter