Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
265 - 5479
حدیث نمبر 265
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن شقیق سے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے کہا کہ کیا نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ کے پورے روزے بھی رکھتے تھے ۱؎ بولیں مجھے خبر نہیں کہ رمضان کے سواء کسی اور پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں یا کسی مہینہ کا پورا افطار کیا ہو ہر مہینہ میں کچھ روزے رکھتے تھے ۲؎ حتی کہ اپنی راہ تشریف لے گئے ۳؎ (مسلم)
شرح
۱؎ چونکہ حضرت عائشہ صدیقہ خصوصیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمدم و ہمراز تھیں اور آپ کے ہر حال پر نگاہ رکھتی تھیں،ساتھ ہی بڑی فقیہ و عالمہ بھی تھیں اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے اندرونی و بیرونی حالات زیادہ تر آپ ہی سے پوچھے جاتے تھے۔

۲؎ حَتّٰی یَصُوْمَ میں حَتّٰی بمعنی کے ہے یعنی کسی مہینہ میں سارا افطار اس لیے نہ کیا تاکہ ہر ماہ میں بعض دن روزے رکھناسنت ہوں اور ہوسکتا ہے کہ حَتّٰی انتہائے غایت کا ہومگر اس میں بہت تکلیف ہے۔(مرقات)

۳؎ یہ حَتّٰی تین جملوں کی انتہا ہے اور اپنی راہ تشریف لے جانے سے مراد وفات پاجاناہے۔
Flag Counter