Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
264 - 5479
باب صیام التطوع

باب نفلی روزے  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ تطوع طوع سے بنا،بمعنی رغبت و خوشی،رب فرماتاہے:"قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ"۔نفلی عبادات کو تطوع اس لیے کہا جاتا ہے کہ بندہ وہ کام اپنی خوشی سے کرتا ہے رب تعالٰی نے اس پر فرض نہ کی یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ میں مسلسل اتنے روزے رکھتے کہ ہم گمان کرتے یا اسے مخاطب تو گمان کرتا کہ آپ اس ماہ بالکل افطار نہ کریں گے اور کسی مہینہ میں مسلسل اتنا افطار فرماتے کہ معلوم ہوتا اس مہینہ میں آپ روزہ کوئی نہ رکھیں گے۔غرضکہ روزہ نفلی میں آپ ہمیشگی نہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر 264
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے رہتے حتی کہ ہم کہتے افطار نہ کریں گے اور افطار کرتے رہتے حتی کہ ہم کہتے روزے نہ رکھیں گے اور میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا کہ سوائے رمضان کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں ۱؎ اور میں نے حضور کو شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے رکھتے نہ دیکھا ۲؎ ایک روایت میں یوں ہے فرماتی ہیں کہ قریبًا سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے اور بجز تھوڑے دنوں کے سارے شعبان کے روزے رکھتے ۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ کلی حکم ہے جس سے کوئی مہینہ مستثنٰی نہیں کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے ماہ رمضان کسی مہینہ کے مکمل روزے کبھی نہ رکھے۔

۲؎ یعنی آپ رمضان کے علاوہ باقی تمام مہینوں میں روزے ضرور رکھتے تھے مگر شعبان میں زیادہ رکھتے تھے۔فِیْ شَھْرٍ اَکْثَرَ کی ضمیر سے حال ہے اور فِیْ شَعْبَانِ مِنْہُ کی ضمیر سے حال یا یہ دونوں ظرف ہیں۔

۳؎ اس عبادت کا دوسرا جملہ پہلے جملہ کی تفسیر ہے یعنی کل شعبان سے مراد قریبًا کل ہے،چونکہ شعبان رمضان کا پڑوسی ہے اس لیے وہ بھی حرمت والا ہے،نیز اس مہینہ میں رمضانی عبادات کی تیاری کرنا چاہئیے،اس لیے اس ماہ میں نفلی نماز روزے کثرت سے ادا کرنا بہتر ہے۔
Flag Counter