Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
263 - 5479
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 263
روایت ہے حضرت مالک سے انہیں روایت پہنچی کہ حضرت عمر سے پوچھا جاتا کہ کیا کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھ دے یا نماز پڑھ دے تو فرماتے تھے کہ نہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھے اور نہ کسی کی طرف سے نماز پڑھے ۱؎(مؤطا)
شرح
۱؎ اس حدیث کی تائید آیات قرآنیہ کررہی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"اور فرماتاہے:"لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ"۔جن سے معلوم ہوا کہ سعی اور کسب یعنی بدنی عبادات خود بندے ہی کو کرنا ہوں گی دوسرے سے نہیں کراسکتا۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں یا بعد موت کوئی شخص کسی کی طرف سے محض بدنی عبادتیں روزہ نماز وغیرہ نہیں ادا کرسکتا۔نسائی شریف میں حضرت ابن عباس سے بعینہ یہ فتویٰ نقل فرمایا،عبدالرزاق نے حضرت ابن عمر سے یہ قول نقل کیا،امام مالک نے فرمایا کہ میں نے کسی صحابی یا تابعی کے متعلق یہ نہ سنا کہ کسی نے کسی کی طرف سے نماز یا روزہ ادا کردینے کی اجازت دی ہو،یہ گفتگو نماز و روزے میں نیابت کے متعلق ہے۔رہا ان عبادات کا ثواب بخشنا وہ باتفاقِ اہلِ سنت بالکل جائزہے۔(مرقات)اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے۔
Flag Counter