۱؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے کہ وہاں ولی کے روزے رکھنے سے مرادحکمی روزہ تھا یعنی ادائے فدیہ۔فقہاء فرماتے ہیں کہ میت کی نمازوں کا بھی فدیہ دے دیا جائے کیونکہ نماز روزے سے زیادہ اہم ہے۔حیلہ اسقاط کی اصل یہ حدیث ہے۔اس حیلہ کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے۔
۲؎ اگرچہ حدیث موقوف ہی صحیح ہے مگر یہ موقوف حدیث مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ صحابہ کرام کے وہ اقوال جو عقل سے وراء ہوں وہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتے ہیں کہ صحابی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ہی یہ فرمایا ہے عقل کی اس میں گنجائش نہیں۔