۱؎ یعنی جس شخص پر رمضان یا نذر کا روزہ قضا ہوگیا پھر اسے قضا کرنے کا موقعہ ملا مگر قضا نہ کیا کہ مرگیا تو اس کا ولی وارث اس کی طرف سے روزہ ادا کردے۔امام احمد کے ہاں اس طرح کہ روزے رکھ دے اور باقی تمام اماموں کے ہاں اس طرح کہ روزوں کا فدیہ دے دے چند وجہوں سے:ایک یہ کہ رب تعالٰی فرماتا ہے: "وَعَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیۡنٍ"جو روزہ کی طاقت نہ رکھیں ان پر فدیہ ہے اور میت بھی طاقت نہیں رکھتا۔دوسرے یہ کہ خود حدیث شریف میں صراحۃً وارد ہوا کہ"الا لایصومن احدٌ عن احد و لا یصلین احد عن احد"کوئی کسی کی طرف سے نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے جیساکہ آگے آرہا ہے۔تیسرے یہ کہ خود صحابہ کرام کا فتوےٰ یہ رہا کہ میت کی طرف سے روزوں کا فدیہ دیا جاوے روزہ رکھا نہ جائے،دیکھو مرقات۔چوتھے یہ کہ قیاس شرعی بھی یہ ہی چاہتاہے کیونکہ نماز بمقابلہ روزہ زیادہ اہم اور ضروری ہے مگر میت کی طرف سے کوئی نمازیں نہیں پڑھتا تو روزے کیسے رکھ سکتا ہے محض بدنی عبادت خودہی کرنی پڑتی ہے دوسرے سے نہیں کرائی جاتی۔