Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
25 - 5479
حدیث نمبر 25
روایت ہے حضرت انس سے کہ حضرت ابوبکر نے جب انہیں بحرین بھیجا ۱؎ تو انہیں یہ فرمان نامہ لکھ کر دیا مہربان رحمت والے اﷲ کے نام سے یہ زکوۃ کا فریضہ ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض فرمایا اور جس کا اﷲ نے اپنے رسول کو حکم دیا ۲؎  تو جس مسلمان سے اس فہرست کے مطابق مانگا جائے وہ دے دے اور جس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے تو نہ دے۳؎ چوبیس اور اس سے کم اونٹوں کی زکوۃ بکری ہے کہ ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ۴؎ پھر جب یہ اونٹ پچیس کو پہنچیں تو پینتیس تک ایک سالہ مادہ اونٹنی ہے ۵؎  پھر جب چھتیس تک پہنچیں تو پینتالیس تک میں دو سالہ مادہ اونٹنی ہے ۶؎ پھر جب چھیالیس کو پہنچیں تو ساٹھ تک میں چار سالہ اونٹنی یعنی اونٹ کی جست کے لائق ۷؎ پھر جب اکسٹھ کو پہنچیں تو پچھتر تک میں ایک پنج سالہ اونٹنی ۸؎ پھر جب چھہتر کو پہنچیں تو نوے تک میں دو عدد دو سالہ اونٹنیاں ۹؎  پھر جب اکیانوے کو پہنچیں تو ایک سو بیس تک دو چارسالہ اونٹنیاں نر اونٹ کی جست کے لائق ۱۰؎ پھر جب ایک سو بیس سے زیادہ ہوں تو ہر چالیس میں ایک دو سالہ اونٹنی ہے اور ہر پچاس میں چار سالہ ۱۱؎ اور جس کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو اس میں زکوۃ نہیں ہاں اگر مالک چاہے ۱۲؎  جب پانچ کو پہنچیں تو اس میں ایک بکری ہے اور جس کے اونٹوں کی زکوۃ پنجسالہ اونٹنی تک پہنچے اور اس کے پاس پنجسالہ ہو نہیں بلکہ چار سالہ ہو تو اس سے چار سالہ ہی لے لی جائے اور اس کے ساتھ دو بکریاں اگر میسر ہوں یا بیس درہم۱۳؎  اور جس کے اونٹوں کی زکوۃ چہار سالہ کو پہنچے اور اس کے پاس چہار سالہ ہے ہی نہیں بلکہ پنجسالہ ہو تو اس سے پنجسالہ ہی وصول کرلی جائے اور زکوۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے ۱۴؎ اور جس کے اونٹوں کی زکوۃ چہار سالہ کو پہنچے مگر اس کے پاس دو سالہ ہی ہو تو اس سے دو سالہ ہی وصولی کرلی جائے اور مالک دو بکریاں یا بیس درہم بھی دے اور جس کی زکوۃ دو سالہ کو پہنچے مگر مالک کے پاس چہار سالہ ہو تو اس سے چہار سالہ ہی وصول کرلی جائے اور اسے عامل بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے اور جس کی زکوۃ دو سالہ کو پہنچے اور دو سالہ اس کے پاس ہو نہیں بلکہ اس کے پاس یکسالہ ہو تو اس سے یکسالہ ہی وصولی کرلی جائے اور اس کے ساتھ مالک بیس درہم یا دو بکریاں دے ۱۵؎ اور جس کی زکوۃ یکسالہ کو پہنچے اور اس کے پاس یکسالہ ہو نہیں بلکہ اس کے پاس دو سالہ ہو تو اس سے وہ ہی وصول کرلی جائے اور اس کو عامل بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے اور اگر مالک کے پاس زکوۃ کے مطابق یکسالہ مادہ ہو نہیں بلکہ اس کے پاس یکسالہ نر ہو تو اس سے وہ ہی لے لیا جائے اور اس کے ساتھ اور کچھ نہیں ۱۶؎  اور بکریوں کی زکوۃ میں ۱۷؎ یعنی جنگل میں چرنے والیوں میں  جب چالیس ہوں تو ایک سو بیس تک ایک بکری ہے ۱۸؎ پھر جب ایک سو بیس سے بڑھ جائیں تو دو سو تک میں دو بکریاں ہیں اور جب دو سو سے زیادہ ہوں تو تین سو تک میں تین بکریاں ہیں جب تین سو سے زیادہ ہوجائیں تو ہر سینکڑے میں ایک بکری ہے ۱۹؎ پھر جب کسی کی جنگل میں چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں زکوۃ نہیں لیکن اگر مالک چاہے تو(خیرات دید ے)۲۰؎  اور زکوۃ میں نہ تو بڑھیا دی جائے نہ کانی ۲۱؎  اور نہ بکرا مگر یہ کہ عامل چاہے(تولے لے)۲۲؎ اور نہ تو متفرق مال کو جمع کیا جائے اور نہ زکوۃ کے ڈر سے جمع مال کو متفرق کیا جائے۲۳؎  اور جو نصاب دو شریکوں کے درمیان ہو تو وہ آپس میں برابر برابر ایک دوسرے سے لے لیں۲۴؎ اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکوۃ ہے اور اگر صرف ایک سو نوے درہم ہوں تو ان میں کچھ زکوۃ نہیں مگر یہ کہ مالک چاہے(تو دیدے)۲۵؎(بخاری)
شرح
۱؎ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں حضرت انس کو بحرین کا حاکم بنا کر بھیجا تو انہیں جو قوانین لکھ کر دئیے ان میں زکوۃ کا قانون حسب ذیل تھا۔خیال رہے کہ بحرین عرب کا ایک صوبہ ہے جو بصرہ سے قریب ہے،چونکہ یہ علاقہ دو دریاؤں کے بیچ میں ہے اس لیے اسے بحرین کہتے ہیں۔

۲؎  یعنی زکوۃ کا حکم اﷲ نے دیا ہے اور اس کی تفصیل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی اور کسی حکم پر بغیر تفصیل معلوم ہوئے عمل نہیں ہوسکتا اس لیے بعد ہجرت زکوۃ دینا فرض ہوئی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ زکوۃ کا حکم ہجرت سے پہلے آیا مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل بعد ہجرت بیان کی۔چنانچہ مکی آیتوں میں ملتا ہے"وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ"۔حضرت صدیق کا منشاء یہ ہے کہ جو کچھ میں لکھ رہا ہوں وہ اپنے اجتہاد یا قرآن و حدیث میں تاویل سے نہیں بلکہ اﷲ کے صریح حکم اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے تفصیلی بیان سے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ فرضیت اور حرمت کی نسبت حضور علیہ السلام کی طرف کی جاسکتی ہے،یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے نماز و روزہ فرض کیا یا شراب و زنا حرام کیا۔

۳؎  یعنی اگر عامل یا حاکم مالک سے ظلمًا زیادہ مانگیں تو زیادتی نہ دی جائے بلکہ اس تحریر کے مطابق ادا کی جائے یا ایسے ظالم کو بالکل زکوۃ نہ دی جائے مالک خود فقراء کو دے کیونکہ فاسق بادشاہ اور حاکم کا خلاف شرع حکم نافذ نہیں۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ ناجائز قانون یا حاکم کے ناجائز حکم پر عمل کرنا شرعًا واجب نہیں بلکہ اگر قدرت ہو تو ایسے قوانین اور احکام کو توڑ دے۔وہ جو پہلےگزر چکا کہ عاملوں کو راضی کرو اگر چہ وہ ظلم ہی کریں اس کے تین چار مطلب پہلے بیان کئے جاچکے ہیں یعنی جو چیز تمہیں ظلم معلوم ہو اور واقع میں ظلم نہ ہو تو اس میں عامل سے نہ جھگڑو قانونی کارروائی کرو وغیرہ لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔

۴؎ یعنی پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں،پانچ سائمہ اونٹوں میں ایک بکری واجب ہے،دس اونٹوں میں دو بکریاں،پندرہ میں تین اور بیس میں چار۔خیال رہے کہ اونٹ کا یہ نصاب پانچ ہے اور زیادتی معافی ہے لہذا اگرکسی کے پاس نو اونٹ تھے اور زکوۃ دینے کے وقت چار ہلاک ہوگئے تب بھی پوری بکری ہی دے گا اس سے کچھ کم نہ کرے گا،یہی حق ہے اسی پر فتویٰ ہے۔

۵؎  یعنی چوبیس تک اونٹوں کی زکوۃ بکریاں سے دی جائے گی کہ ہر پانچ میں ایک بکری اور اس کے بعد خود اونٹ سے ہی دی جائے گی اور زکوۃ میں اونٹ کی مادہ لی جائے گی نہ کہ غیر۔بنت مخاض وہ اونٹنی ہے جو ایک سال کی ہوکر دوسرے سال میں قدم رکھ دے،چونکہ اس وقت اس کی ماں دوسرے بچے سے حاملہ ہوجاتی ہے اس لیے اسے بنت مخاض کہتے ہیں یعنی حاملہ کی بچی۔مخاض حمل کو بھی کہتے ہیں اور دردزہ کو بھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاَجَآءَہَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ"یعنی حضرت مریم کو ان کا حمل یا درد زہ درخت کھجور کے پاس لایا۔

۶؎  یعنی بکریوں کی حالت میں پانچ پر نصاب بڑھتا تھا اور اب دس پر بڑھے گا۔بنت لبون وہ دو سالہ اونٹنی ہے جو تیسرے سال میں قدم رکھ دے،چونکہ اس وقت اس کی ماں دوسرے بچے کو دودھ پلاتی ہوتی ہے اس لیے اسے بنت لبون کہتے ہیں یعنی دودھ پلانے والی کی بچی۔لبون لبن سے ہے،بمعنی دودھ۔

۷؎ یعنی چھیالیس سے ساٹھ اونٹوں کی زکوۃ تین سالہ اونٹنی ہے جو چوتھے سال میں داخل ہوجائے،چونکہ اس وقت اونٹنی بوجھ اٹھانے کے لائق بھی ہوجاتی ہے اور نر کی جفتی کی مستحق بھی اس لیے اسے حقہ کہتے ہیں یعنی مستحق جفتی،اسی سے حقیق ہے،بمعنی لائق،رب تعالٰی فرماتاہے:"حَقِیۡقٌ عَلٰۤی اَنۡ لَّاۤ اَقُوۡلَ عَلَی اللہِ اِلَّا الْحَقَّ"۔

۸؎ یعنی اس نصاب میں وہ اونٹنی واجب ہوگی جو پانچ کی ہوکر چھٹے سال میں قدم رکھ دے۔خیال رہے کہ جذع کے معنے ہیں اگنا اسی لیے درخت کی جڑ کو جذع کہتے ہیں کہ اس پر شاخیں اُگتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: "فَاَجَآءَہَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ"۔چونکہ اس وقت اونٹنی کے سارے دانت اگ آتے ہیں اس لیے اسے جذع کہا جاتا ہے۔

۹؎  ان عبارات سے پتہ لگ رہا ہے کہ دو نصابوں کے بیچ کی کسروں میں کچھ واجب نہیں لہذا اگر ان میں سے کچھ گھٹ جائے تو زکوۃ گھٹے گی نہیں۔

۱۰؎  فتح القدیر میں ہے کہ زکوۃ کے نصاب نماز کی رکعتوں کی طرح توقیفی چیز ہیں جن میں عقل کو دخل نہیں۔خیال رہے کہ اونٹ کی زکوۃ میں صرف مادہ یا اس کی قیمت لی جائے گی،گائے اور بکریوں کی زکوۃ میں مادہ اور نر دونوں لیے جاسکتے ہیں۔

۱۱؎  اس کے ظاہری معنی پر بہت سے علماء کا عمل ہے کہ وہ ایک سو بیس اونٹوں کے بعد چالیس تک زکوۃ میں کچھ زیادتی نہیں کرتے،چالیس پر ایک بنت لبون بڑھاتے ہیں مگر امام نخعی اور سفیان ثوری اور امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہم ایک سوبیس اونٹوں کے بعد پھر پہلے کی طرح زکوۃ میں زیادتی کرتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ ان کے ہاں ایک سوپچیس اونٹوں میں دو حقے ایک بکری اورایک سوتیس میں دو حقے دو بکریاں اسی طرح پہلی ترتیب کی مطابق زیادتی ہوگی،ان بزرگوں کی دلیل وہ حدیث ہے جو سیدنا علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب اونٹ ایک سوبیس سے زیادہ ہوجائیں تو"ترد الفرائض الی اولہا"اور وہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو ابن حزم کو زکوۃ،دیّتوں وغیرہ کا فرمان نامہ لکھ کردیا جس میں اونٹ کی زکوۃ کے بارے میں تحرفرمایا:"ان الابل اذا زادت علی عشرین ومائۃ استونفت الفریضۃ"۔فتح القدیر نے اس مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق و فاروق رضی اللہ عنھما کی بہت تحریریں نقل فرمائیں جن میں سے بحوالہ ابوداؤد و ترمذی و ابن ماجہ حضرت عمر فاروق کی تحریر اور بحوالہ نسائی باب الدیات اور بحوالہ مراسیل،ابوداؤد وعمرو ابن حزم کی تحریرنقل فرمائی۔شرح کنز میں بہت سی احادیث جمع کی ہیں جن سب میں یہی ہے کہ ایک سوبیس کے بعد نئے سرے سے زکوۃ واجب ہوگی۔یہ حدیث اگرچہ بخاری کی ہے مگر وہ احادیث بھی بہت سی اسنادوں سے مروی ہیں اور امام بخاری کی پیدائش سے پہلے ہی اجتہاد مجتہدین کی بنا پر قوی ہوچکی تھیں،اگر کسی کی اسناد میں بعدکو ضعف پیدا ہوا ہو تو ان مجتہدین کو مضر نہیں۔ (ازمرقات)

۱۲؎  یعنی اگر مالک چاہے تو چار اونٹوں سے ہی صدقہ نفلی ادا کردے۔کتنا ادا کرے یہ اسے اختیار ہے۔

۱۳؎  کیونکہ چار سالہ اونٹنی کی قیمت کم ہوتی ہے پنج سالہ کی زیادہ،مالک نے چونکہ واجب سے کم زکوۃ دی ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے یا ساتھ میں دو بکریاں دے یا  بیس درہم یعنی پانچ روپے۔خیال رہے کہ اس زمانہ میں عمومًا چار سالہ اور پنجسالہ میں اتنا ہی فرق ہوتا تھا اور بکری کی قیمت ڈھائی روپے ہی تھی اس لیے یہ فرمایا گیا اب یہ حساب نہ ہوگا،اب تو ایک بکری چالیس پچاس روپے کی ہوتی ہے،اب آج کے حساب سے زیادتی کمی لی جائے گی۔

۱۴؎ اس کی وجہ پہلے بیان ہوچکی یہ اس زمانہ کی قیمتوں کے حساب سے ہے۔

۱۵؎  خلاصہ یہ ہے کہ اگر عامل نے زکوۃ سے زیادہ قیمتی جانور وصول کرلیا ہے تو بقدر زیادتی مالک کو واپس کرے اور اگر اس سے کم لیا ہے تو کمی پوری کرنے کے لیے کچھ اوربھی ساتھ لے مگر لین دین میں حساب برابر رکھا جائے گا کیونکہ انصاف کرنا ہے۔

۱۶؎ یعنی اونٹ کی زکوۃ میں مادہ  ہی واجب ہے لیکن اگر  مادہ   نہ  ہو  تو  اس سے اونچی عمر کا نر لیاجائے گا تاکہ انوثیت کا بدلہ  زیادتی عمر سے ہوجائے۔خیال رہے کہ  مادہ نہ ہونے کی تین صورتیں ہیں: ایک یہ کہ مادہ موجود ہی نہیں۔ دوسرے یہ کہ موجود تو ہے مگر بیمار یا دبلی ہے یا موجود تو ہے مگر بہت فربہ موٹی،نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے اور زکوۃ میں درمیانی لی جاتی ہے ان تینوں صورتوں میں زیادہ عمر کا نر لیا جائے گا۔(مرقات)

۱۷؎ عربی میں بکری کو غنم کہتے ہیں کیونکہ اس کے پاس دشمن سے بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں اس لیے اسے ہر دشمن غنیمت کی طرح آسانی سے لے لیتا ہے۔بھیڑ اور دنبے بکریوں کے حکم میں ہیں۔

۱۸؎  جنگل میں چرنے والی وہ بکری ہے جو سال کا اکثر حصہ جنگل کی قدرتی پیداوار کھاکر پلے اگر زیادہ حصہ گھر کے چارے پرگزارے تو اسے علوفہ کہیں گے اس میں زکوۃ نہیں ہاں اگر تجارت کی بکریاں ہیں تو ان میں تجارتی زکوۃ ہے گھر چریں یا جنگل میں۔خیال رہے کہ ا گر بکریوں کے دودھ کی تجارت کرتا ہو نہ کہ عین بکری کی تو ان میں تجارت کی زکوۃ نہیں۔

۱۹؎   خلاصہ یہ ہے کہ بکری کا نصاب چالیس ہے خواہ خالص بکریاں ہوں یا بکری بکرے مخلوط،خالص بکروں میں زکوۃ نہیں کیونکہ ان کی نسل نہیں چلتی پھر پہلی کسر۸۰ہے جس میں زکوۃ نہیں بڑھتی یعنی ایک سوبیس تک ایک ہی بکری واجب ہوتی ہے،ایک سو بیس کے بعد پھر۸۰ کسر ہے جس سے زکوۃ نہیں بڑھتی،دو سو تک دو بکریاں ہی واجب ہوتی ہیں،پھر سو کسر ہے جن سے زکوۃ نہیں بڑھتی تین سو تک تین ہی بکریاں رہتی ہیں تین سو کے بعد بھی سو ہی کسر ہے،چارسو پر۴ بکریاں واجب ہوں گی،عام علماء کا یہی قول ہے البتہ امام نخعی اور حسن ابن صالح رحمۃ اﷲ علیہم فرماتے ہیں کہ اگر تین سو پر ایک بکری بھی زیادہ ہوگی تو چار بکریاں واجب ہوں گی مگر پہلا قول زیادہ قوی ہے،ظاہری حدیث اسی کی تائید کررہی ہے۔

۲۰؎ یہاں رجل سے مراد ہر بالغ عاقل مسلمان ہے مرد ہو یا عورت یعنی چونکہ بکری کا نصاب چالیس ہے لہذا اگر انتالیس بکریاں بھی ہوں تو زکوۃ واجب نہیں ہوگی،ہاں اگر مالک کچھ صدقہ نفلی دیدے تو اسے اختیار ہے۔

۲۱؎  بوڑھی میں بیمار بھی داخل ہے اور کانی میں ہر اس عیب والی جس سے قیمت کم ہوجائے،یہ حکم جب ہے جب مالک کے پاس جوان یا بے عیب بھی ہوں لیکن اگر اس کے پاس ساری بوڑھی یا عیب دار ہی ہوں تو انہی میں سے درمیانی بوڑھی یا عیب دار لی جائے گی۔(مرقات)

۲۲؎ صحیح یہ ہے کہ یہاں مصدق سے مراد صدقہ لینے والا عامل ہے نہ کہ دینے والا اور یہ استثناءصرف بکرے کی طرف لوٹ رہا ہے یعنی زکوۃ میں بکرا نہ لیا جائے گا،ہاں اگر عامل بکرے ہی کو فقراء کے لیے مفید سمجھے تو لے لے کیونکہ وہ فقراء کا وکیل ہے ان کی بھلائی کا لحاظ کرے کبھی بکرا خصوصًا خصی قیمت میں بکری سے زیادہ ہوتاہے۔اس جملہ کی اور بہت سی شرحیں کی گئی ہیں لیکن فقیر کی یہ شرح سیدھی صاف اور بے گرد و غبار ہے۔

۲۳؎ یہ جملہ بہت جامع ہے جس کے بہت معنے ہوسکتے ہیں اگر اس میں عامل کی طرف روئے سخن ہے تو معنے یہ ہوں گے کہ نہ تو عامل زکوۃ لینے کے لیے چندشخصوں کا تھوڑا مال ملا کر نصاب بنالے مثلًا دو شخصوں کے پاس بیس بیس بکریاں ہیں تو ان کو ملاکر چالیس بنالے اور زکوۃ لے لے یہ ناجائز ہے اور نہ زکوۃ بڑھانے کے لیے ایک شخص کے ایک مال کو متفرق کردے مثلًا کسی کے پاس ایک سو بیس بکریاں ہیں جن میں ایک بکری واجب ہوتی ہے عامل انہیں چالیس کے تین نصاب بنالے اور تین بکریاں لے لے یہ ناجائز ہے۔امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہی معنے کئے اور اگر روئے سخن مالک کی طرف ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ مالک تمام زکوۃ کم کرنے یا بچنے کے لیے متفرق مال جمع نہ کرے مثلًا دو شخصوں کے پاس چالیس چالیس بکریاں ہیں جن میں الگ الگ ایک بکری واجب ہوتی ہے مگر یہ دونوں عامل کے سامنے اسے شرکت کا مال قرار دے کر ایک بکری دیں یہ جرم ہے یا دو آدمیوں کی شرکت میں چالیس بکریاں ہیں جن میں ایک بکری واجب ہوتی ہے مگر عامل کے سامنے یہ دونوں تھوڑی دیر کے لیے شرکت توڑ دیں اور اگر شرکت توڑ دیں اور الگ الگ بیس بیس بکریاں دکھا کر زکوۃ سے بچ جائیں یہ توجیہ امام شافعی کی ہے اور ہوسکتا ہے کہ روئے سخن مالک اور عامل دونوں کی طرف ہو یعنی مالک تو صدقہ سے بچنے یا کم کرنے کے لیے مجتمع کو متفرق نہ کرے اور عامل صدقہ بڑھانے یا واجب کرنے کے لیے متفرق کو جمع نہ کرے،خوف صدقہ دونوں کو شامل ہے۔مالک کو صدقہ واجب ہونے یا بڑھ جانے کا خوف ہوتا ہے اور عامل کو صدقہ واجب نہ رہنے یا گھٹ جانے کا اور بھی اس کی بہت شرحیں ہوسکتی ہیں۔یہ ہے اس افصح الفصحاء کی جامع البیانی کہ دو لفظوں میں بہت صورتیں بیان فرمادیں،صلی اللہ علیہ وسلم۔

۲۴؎ یعنی  اگر  ایک  مال  کے  دو مشترک  مالک  ہوں اور ان  پر بقدر حساب شرعی زکوۃ واجب ہوجائے تو زکوۃ مشترکہ دےدیں،بعد میں حساب کرلیں مثلًا دو شخصوں کی دوسو  بکریاں مشترک ہیں  اسطرح کہ چالیس  ایک  کی  ہیں  اور  ایک سوساٹھ  ایک  کی،جس کی دوبکریاں بطور زکوۃ دی گئیں تو چالیس والا بھی اپنے ذمہ ایک بکری لے گا  اور ایک سوساٹھ والا بھی ایک بکری،یہ نہ ہوگا کہ دوبکریاں کا5/1 چالیس والا دے اور 5/4 ایک سو ساٹھ والا،برابری سے یہی مراد ہے۔ (لمعات وغیرہ)یہاں مرقات نے بہت بڑی بحث کی مگر جتنا فقیر نے عرض کردیا وہ  کافی ہے۔خیال رہے کہ نصاب میں شرکت کی چند صورتیں :ایک یہ کہ ایک آدمی کے دو  بیٹوں کو میراث ملی جو ابھی تقسیم نہیں ہوئی۔دوسرے یہ کہ دو شخصوں نے اپنے مال مخلوط کرکے ان سے مشترکہ کاروبار شروع کردیا وغیرہ۔

۲۵؎ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ چاندی  سونے  کی  زکوۃ  وزن  پر ہوتی ہے  نہ  کہ  قیمت  پراور اس کا  ادنی  نصاب  دوسو درہم یعنی ساڑھے باون تولہ ہے،چالیسواں حصہ زکوۃ ہے یعنی سو روپے پر ڈھائی روپے اور ہزار پر پچیس۔اس کی پوری بحث کتب فقہ میں دیکھو۔
Flag Counter