| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ہم میں سے بعض روزہ دار تھے بعض بے روزہ ہم گرم دن میں ایک منزل پر اترے روزہ دار تو گر گئے ۱؎ اور بے روزہ کھڑے رہے انہوں نے خیمے لگائے اونٹوں کو پانی پلایا ۲؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج بے روزہ ثواب لے گئے ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی روزہ دار حضرات ضعف کی وجہ سے منزل پر پہنچتے ہی لیٹ گئے کوئی کام نہ کرسکے،یہاں گرنے سے مرادبے ہوش ہوکر گرنا نہیں ورنہ ان پربھی وہ عتاب ہوجاتا جو پچھلی حدیث میں گزرا۔ ۲؎ اور تمام وہ ضروری کام کئے جو سفروں میں عمومًا اور جہاد میں خصوصًا کئے جاتے ہیں لہذا یہ سارے کام ثواب ہیں۔ ۳؎ ثواب سے مراد کامل ثواب ہے یعنی روزہ داروں نے تو روزوں کا ثواب پایا جسے یہ لوگ بھی بعد رمضان قضاء کرکے حاصل کرلیں گے مگر بے روزوں نے جہاد کی تیاری اور لشکر اسلام کی خدمت کرکے وہ ثواب کمالیاجس کی وہ قضاء نہ کرسکیں گے۔شعر نمازیں گر قضا ہوں پھر ادا ہوں نگاہوں کی قضا کب ادا ہوں کیا تمہیں خبر نہیں کہ سیدنا علی مرتضٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند پر نماز عصر قضاءکردی۔خیال رہے کہ چونکہ یہ روزہ دار حضرات بقیہ صحابہ پر بوجھ نہ بنے اس لیے ان پر عتاب نہ فرمایا گیا۔