۱؎ ان صاحب کا نام قیس یا قیصر ہے،کنیت ابو اسرائیل ہے،گرمی سخت تھی،سفر کی حالت تھی،غزوہ تبوک کا موقعہ تھا،جب کہ لشکر اسلام میں کھانے کی بھی کمی تھی،یہ ایک درخت کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے،بغیر سحری کا روزہ منہ میں تھاکہ بے ہوش ہو کر گر گئے،صحابہ کرام نے اپنی چادروں سے سایہ کرلیا یا ان پر خیمہ لگادیا کیونکہ عرب کے عام درختوں کا سایہ کافی نہیں ہوا کرتا۔(ازمرقات)
۲؎ بلکہ برا ہے یا تو الصوم میں الف لام عہدخارجی ہے یا سفر میں یا دونوں میں یعنی ایسے سخت سفر میں ایسا بے سرور سامانی کا روزہ بھلائی نہیں بلکہ برا ہے اور رب تعالٰی کے اس فرمان کے خلاف ہے"یُرِیۡدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الْعُسْر"لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سفر میں روزے رکھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ صالحین کی خدمت نوافل سے افضل ہے یعنی یہ صاحب اگر روزہ نہ رکھتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی خدمت کرتے، اب روزہ رکھ کر خود جلیل القدر صحابہ سے خدمت لینے لگے۔