Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
249 - 5479
حدیث نمبر 249
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو لوگوں کی بھیڑ دیکھی اور ایک شخص کو ملاحظہ کیا جس پر سایہ کیا گیا تھا ۱؎ فرمایا یہ کیا ہے لوگوں نے کہا ایک روزہ دار ہے فرمایا سفر میں یوں روزہ رکھنا بھلائی نہیں ۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ ان صاحب کا نام قیس یا قیصر ہے،کنیت ابو اسرائیل ہے،گرمی سخت تھی،سفر کی حالت تھی،غزوہ تبوک کا موقعہ تھا،جب کہ لشکر اسلام میں کھانے کی بھی کمی تھی،یہ ایک درخت کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے،بغیر سحری کا روزہ منہ میں تھاکہ بے ہوش ہو کر گر گئے،صحابہ کرام نے اپنی چادروں سے سایہ کرلیا یا ان پر خیمہ لگادیا کیونکہ عرب کے عام درختوں کا سایہ کافی نہیں ہوا کرتا۔(ازمرقات)

۲؎  بلکہ برا ہے یا تو الصوم میں الف لام عہدخارجی ہے یا سفر میں یا دونوں میں یعنی ایسے سخت سفر میں ایسا بے سرور سامانی کا روزہ بھلائی نہیں بلکہ برا ہے اور رب تعالٰی کے اس فرمان کے خلاف ہے"یُرِیۡدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الْعُسْر"لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سفر میں روزے رکھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ صالحین کی خدمت نوافل سے افضل ہے یعنی یہ صاحب اگر روزہ نہ رکھتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی خدمت کرتے، اب روزہ رکھ کر خود جلیل القدر صحابہ سے خدمت لینے لگے۔
Flag Counter