Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
251 - 5479
حدیث نمبر 251
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ معظمہ تشریف لے گئے ۱؎ تو روزے رکھتے رہے حتی کہ عسفان پہنچ گئے ۲؎ پھر پانی منگایا تو اسے اپنے ہاتھ میں اٹھایا ۳؎ تاکہ آپ کو لوگ دیکھ لیں۴؎ پھر افطار فرماتے رہے حتی کہ مکہ معظمہ آگئے ۵؎ اور یہ واقعہ رمضان میں تھا ۶؎ چنانچہ حضرت ابن عباس فرماتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطارکرے ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ فتح مکہ کے سال۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر اور فتح مکہ کے موقعوں پر رمضان میں سفر کیا ہے ان دو سفروں کے علاوہ اور کبھی رمضان میں سفر ثابت نہیں۔(مرقات)وہ جو روایتوں میں آتا ہے کہ ہم ایک بار سخت گرمی میں سفر جہاد میں تھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے سواء ہم میں کوئی روزہ دار نہ تھا وہاں رمضان کا ذکر نہیں۔

۲؎ عسفان مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کے راستہ پر دوسری منزل ہے،مشہور جگہ ہے۔

۳؎ یہ الیٰ بمعنی فی ہے جیسے"لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ"اور ہوسکتا ہے کہ بمعنی مع ہوجیسے"مَنْ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللہِ"یا جیسے"لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَہُمْ اِلٰۤی اَمْوٰلِکُمْ اورممکن ہے کہ بمعنی عَلیٰ ہو اور ہوسکتا ہے کہ اپنے ہی معنے میں ہو یعنی انتہاء کے لیے اور اصل عبارت یوں ہو اِلٰی مَدِّیَدِہٖ یعنی پانی کا پیالہ اپنے ہاتھ میں اٹھایا اپنے ہاتھ پر یا دست مبارک کے ساتھ پیالہ بھی اوپر اٹھایا یا پیالہ ہاتھ میں لے کر ہاتھ پورا بلندکردیا،الحمدﷲ! عبارت میں کوئی اشکال نہ رہا۔

۴؎ یہ لوگوں کو دکھانا ماہ رمضان کی بے حرمتی کے لیے نہ تھا بلکہ لوگوں کو مسئلہ بتانے کے لیے کیونکہ وہاں سب ہی مسافر تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ مسافر راستہ میں مسافروں کے ساتھ رمضان میں علانیہ کھاسکتا ہے۔

۵؎ بعض شارحین نے اَفْطَرَ کے معنے یہ سمجھے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر توڑ دیا،اسی بنا پر انہوں نے فرمایا کہ مسافر کو رمضان میں روزہ رکھ کر توڑ دینا بھی جائز ہے مگر یہ غلط ہے۔اَفْطَرَ کے وہی معنے ہیں جو فقیر نے عرض کئے ورنہ ابھی حدیثوں میں گزر چکا کہ بعض صحابہ سفر جہاد میں روزہ کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گر گئے،ان پر صحابہ نے سایہ تو کیا مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روزہ توڑنے کی اجازت نہ دی۔

۶؎ یعنی نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے لیے۲ رمضان      ۸ھ؁  میں بعدعصر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ (مرقات)اور بیس رمضان کو مکہ معظمہ فتح ہوا،بعض مؤرخین نے دسویں۱۰  رمضان کو روانگی بیان کی ہے۔

۷؎ بعض شیعہ سفر میں روزہ مطلقًا ناجائز کہتے ہیں اور اس قول کو سیدنا عبداﷲ ابن عباس کیطرف منسوب کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں،حضرت ابن عبا س کا قول وہ ہے جو یہاں منقول ہوا۔
Flag Counter