۱؎ مسلمان کی قید سے معلوم ہوتاہے کہ کفار پر زکوۃ فرض نہیں اسی لیے کوئی کافر مسلمان ہوجانے پر زمانہ کفر کی نہ نمازیں قضا کرتا ہے نہ زکوۃ دیتا ہے،ہاں قیامت میں کفار کو عبادات نہ کرنے کی بھی سزا ملے گی،رب تعالٰی فرماتا ہے کہ دوزخی کہیں گے"قَالُوۡا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیۡنَ"الخ لہذا حدیث و قرآن میں تعارض نہیں۔
۲؎ تجارتی گھوڑوں اور غلاموں میں تمام اماموں کے نزدیک زکوۃ ہے اور سواری کے گھوڑے اور خدمت کے غلام میں کسی کے ہاں زکوۃ نہیں ہاں جو گھوڑے سواری و تجارت دونوں کے لیے نہ ہوں ان کی مادہ میں امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک زکوۃ ہے کہ مالک یا تو فی گھوڑی ایک اشرفی دے دے یا اس کی قیمت کا چالیسواں حصہ نکال دے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں کیونکہ یہاں سواری کا گھوڑا اور خدمت کا غلام مراد ہے۔فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ گھوڑے اور غلام میں صاحبین کے مذہب پر فتویٰ ہے کہ ان میں زکوۃ نہیں اسی طرح مرقات میں ہے۔خیال رہے کہ خدمت کے غلام کا فطرہ مالک پر واجب ہے اس کی زکوۃ نہیں،نوکر چاکروں کا فطرہ آقا پر نہیں کیونکہ یہ اس کے غلام نہیں۔