Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
248 - 5479
حدیث نمبر 248
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا جب کہ ماہ رمضان کے سولہ دن گزر گئے تھے ۱؎ تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض وہ تھے جنہوں نے افطار کیا تو نہ روزہ داروں نے بے روزوں کو عیب لگایا اور نہ بے روزوں نے روزہ داروں کو ۲؎ (مسلم)
شرح
۱؎ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی درمیان رمضان میں سفر کرے تو اسے افطار جائز نہیں اس پر روزہ ہی فرض ہے،افطار کی اجازت صرف اسے ہے جسے بحالت سفر رمضان شرو ع ہو۔اس حدیث میں ان کی کھلی تردید ہے،دیکھو سولہ رمضان کو سفر شروع ہوا اور بعض صحابہ نے روزے نہ رکھے۔

۲؎  یہ حدیث بظاہر ان علماء کی دلیل ہے جو سفر میں روزہ رکھنے نہ رکھنے کو یکساں کہتے ہیں کسی کو ترجیح نہیں دیتے  مگر یہ استدلال ضعیف ساہے کیونکہ یہاں عیب لگانے کی نفی ہے ترک مستحب پر نہ عیب لگایاجاتاہے نہ اعتراض ہوتا ہے۔خیال رہے کہ اس غزوہ میں حالات معمول پر ہوں گے ورنہ بحالت جنگ روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔
Flag Counter