۱؎ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی درمیان رمضان میں سفر کرے تو اسے افطار جائز نہیں اس پر روزہ ہی فرض ہے،افطار کی اجازت صرف اسے ہے جسے بحالت سفر رمضان شرو ع ہو۔اس حدیث میں ان کی کھلی تردید ہے،دیکھو سولہ رمضان کو سفر شروع ہوا اور بعض صحابہ نے روزے نہ رکھے۔
۲؎ یہ حدیث بظاہر ان علماء کی دلیل ہے جو سفر میں روزہ رکھنے نہ رکھنے کو یکساں کہتے ہیں کسی کو ترجیح نہیں دیتے مگر یہ استدلال ضعیف ساہے کیونکہ یہاں عیب لگانے کی نفی ہے ترک مستحب پر نہ عیب لگایاجاتاہے نہ اعتراض ہوتا ہے۔خیال رہے کہ اس غزوہ میں حالات معمول پر ہوں گے ورنہ بحالت جنگ روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔