Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
247 - 5479
باب صوم المسافر

باب مسافر کا روزہ  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  شریعت میں مسافر وہ ہے جو اپنے شہر سے تین منزل یعنی چھتیس کوس(۵۷میل)کے ارادہ سے نکلے پھر جب تک وہ گھر لوٹ نہ آئے یا کسی جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرے مسافر ہی ہوگا کہ اس پر نماز میں قصر واجب ہوگا اور روزہ قضا کرنے کی اجازت ہوگی۔امام ابوحنیفہ،مالک،شافعی و ثوری رضی اللہ عنہم کے ہاں مسافر کو روزہ رکھنا بہتر ہے اور امام احمدو اوزاعی کے ہاں افطار بہتر،یہ عام حالات میں ہے بعض حالات میں اس پر افطار واجب ہوجاتاہے جیسے مسافر غازی جب روزہ کی وجہ سے بجائے جہاد کرنے کے دوسرے پر بوجھ بن جائیں۔(از لمعات)
حدیث نمبر 247
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ ابن عمر اسلمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا میں سفر میں روزہ رکھوں وہ بہت روزے رکھتے تھے ۱؎ تو حضور نے فرمایا اگر چاہو روزہ رکھو اگر چاہو افطار کرو ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ آپ صائم الدھر یعنی ہمیشہ کے روزہ دار تھے چاہتے تھے کہ سفر میں بھی کبھی روزہ نہ چھوڑیں تب یہ سوال کیا سفر میں روزہ رکھنا گناہ تو نہیں شاید آپ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن چکے تھے کہ سفر میں روزہ اچھا نہیں اس لیے یہ سوال کیا۔

۲؎ اس جواب سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اگرچہ مسافر کو روزہ رکھنے نہ رکھنے کا اختیار ہے مگر عام حالات میں روزہ رکھ لینا بہتر تاکہ عام مسلمانوں کی موافقت بھی ہوجائے اور رمضان کے بعد قضاء گراں بھی نہ پڑے کیونکہ سرکارصلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کا ذکر پہلے فرمایا۔خیال رہے کہ اگرچہ مسافر کو روزہ نہ رکھنے کا اختیار ہے مگر ماہ رمضان کی بے حرمتی کرنے کا اختیار نہیں لہذا بازاروں میں علانیہ نہ کھائے پیئے،نہ سگریٹ پیتا پھرے بلکہ چھپ کر کچھ کھائے پیئے،حیض و نفاس والی عورتوں کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ چھپ کر کھائیں پئیں۔
Flag Counter