Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
238 - 5479
حدیث نمبر 238
روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک شخص پر تشریف لائے جو فصد لے رہا تھا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑے تھے  ۱؎ رمضان کے اٹھارہ دن گزر چکے تھے تو فرمایا فصد لینے والے اور فصدکرانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)شیخ امام السنۃ رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ جن بعض علماء نے فصد کی اجازت دے دی وہ اس کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ دونوں قریب الافطار ہوگئے فصد کرانے والا تو ضعف کی وجہ سے اور فصدکرنے والا اس لیے کہ وہ اس سے امن میں نہیں کہ سینگی چوسنے کی وجہ سے اس کے پیٹ میں کچھ پہنچ جائے۳؎
شرح
۱؎ یعنی میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ہی قریب تھا لہذا میں نے آپ کے کلمات نہایت صحیح سنے یا یہ مطلب ہے کہ مجھ پر اس دن اﷲ کا بڑا فضل تھا کہ میرا ہاتھ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا ہوا تھا۔

۲؎ یہی مذہب ہے امام احمد و اسحاق کا فصد سے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے باقی آئمہ فرماتے ہیں کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے روزے میں بارہا فصد کرائی ہے لہذا یہ حدیث یا منسوخ ہے یا اس کی تاویل لازم ہے۔چنانچہ علماء نے اس کی بہت تاویلیں کی ہیں جن میں سے ایک تاویل وہ ہے جو خود مشکوٰۃ شریف میں ہی آگے آرہی ہے ۔

۳؎  فصد لینے والا پہلے نشتر سے عضو پر زخم لگاتا ہے،پھر سنگی کا چوڑا حصہ زخم پر رکھ کر اس کا باریک حصہ اپنے منہ میں لے کر زور سے چوستا ہے پھر اس سوراخ کو آٹے وغیرہ سے بند کردیتا ہے جس سے عضو کا خون جمع ہوتا رہتا ہے خون نکل جانے کی وجہ سے فصد کرانے والا بہت کمزور ہوجاتا ہے بسا اوقات فورًا اسے کچھ کھانا پینا پڑتا ہے اور فصد لینے والے کے منہ بلکہ حلق میں بے اختیاری طور پر چوستے وقت کچھ خون پہنچ جاتا ہے لہذا حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ یہ دونوں قریب الافطار ہوگئے،فصد لینے والا تو اس لیے کہ شاید کچھ خون حلق میں اتر گیا ہو اور فصد کرانے والا اس لیے کہ شاید وہ زیادتی کمزوری کی بنا پر کچھ کھانے پینے پر مجبور ہوجائے۔ سنگی کو ملازم اس لیے کہتے ہیں کہ وہ زخم سے چپٹ جاتی ہے ۔بعض علماء نے فرمایا کہ وہ دونوں صاحب فصد کے وقت غیبتیں بھی کررہے تھے اس غیبت کی وجہ سے فرمایا کہ ان کا روزہ جاتا رہا یعنی روزے کا ثواب جاتا رہا،بعض نے فرمایا کہ وہ دونوں ہی حضرات شام کے وقت افطار کے قریب فصد کا کام کررہے تھےتب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا یعنی یہ دونوں افطار کرنے والے ہی تھے تھوڑا اور ٹھہر جاتے۔غرضکہ یہ حدیث واجب التاویل ہے اور فصد کرانے والی حدیثوں کے خلاف نہیں۔
Flag Counter